کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: سفیان بن عیینہ کی ابوحازم سے روایات
❮
❯
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ» ، وَأَشَارَ سُفْيَانُ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے جیسے یہ اس سے قریب ہے“، اور سفیان نے شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5891
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 175، حدیث 5912
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو حَازِمٍ قَالَ: سَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ مِنْبَرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «وَمَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، هُوَ مِنْ أَثْلِ الْغَابَةِ. عَمِلَهُ لَهُ فُلَانٌ مَوْلَى فُلَانَةَ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَعَدَ عَلَيْهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ، ثُمَّ صَعَدَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى، ثُمَّ سَجَدَ»
ترجمہ
ابوحازم بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کا منبر کس چیز سے بنا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ”لوگوں میں اب کوئی ایسا باقی نہیں رہا جو اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتا ہو، وہ جنگل کی جھاؤ کی لکڑی سے بنا تھا، اسے فلاں شخص نے بنایا تھا جو فلاں عورت کا غلام تھا۔ اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ اس پر چڑھے تو قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہی، پھر قرأت کی، پھر رکوع کیا، پھر پیچھے کی طرف اترے اور سجدہ کیا، پھر چڑھے، پھر قرأت کی، پھر رکوع کیا، پھر پیچھے کی طرف اترے، پھر سجدہ کیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5892
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 175، حدیث 5913
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصْلِحَ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فِي شَيْءٍ وَقَعَ بَيْنَهُمْ، حَتَّى تَرَامَوْا بِالْحِجَارَةِ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ، فَاحْتَبَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَتَخَلَّلُ الصُّفُوفَ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ الَّذِي يَلِي أَبَا بَكْرٍ أَخَذَ النَّاسُ فِي التَّصْفِيحِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْتَفَتَ، فَأَبْصَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اثْبُتْ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ شُكْرًا لِلَّهِ، وَرَجَعَ الْقَهْقَرَى، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ حِينَ أَشَرْتُ إِلَيْكَ؟» فَقَالَ: مَا كَانَ اللهُ لِيَرَى: ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ انْحَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّاسِ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَا لَكُمْ حِينَ نَابَكُمْ فِي صَلَاتِكُمْ شَيْءٌ أَخَذْتُمْ فِي التَّصْفِيحِ؟ إِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ، وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ: سُبْحَانَ اللهِ "
ترجمہ
ابوحازم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: رسول اللہ ﷺ بنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے کے لیے نکلے، ان کے درمیان ایک معاملہ پیش آ گیا تھا یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے پر پتھراؤ کرنے لگے تھے۔ اسی دوران نماز کا وقت آ گیا تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، مگر رسول اللہ ﷺ (وہاں سے) نہ آ سکے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے تاکہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ جب آپ ﷺ اس صف تک پہنچے جو ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملحق تھی تو لوگ تالی بجانے لگے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ ایسے آدمی تھے جو نماز میں (اِدھر اُدھر) توجہ نہیں دیتے تھے، مگر جب انہوں نے یہ آواز سنی تو متوجہ ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ ثابت قدم رہو، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور پیچھے کی طرف چلنے لگے، اور رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے۔ جب رسول اللہ ﷺ اپنی نماز مکمل کر چکے تو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں اشارہ کیا تو تمہیں ثابت قدم رہنے سے کس چیز نے روکا؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ نے یہ گوارا نہیں کیا کہ ابوقحافہ کا بیٹا رسول اللہ ﷺ کے آگے نماز پڑھائے۔ پھر رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! تمہیں کیا ہو گیا کہ جب تمہیں نماز میں کوئی بات پیش آتی ہے تو تم تالی بجانے لگتے ہو؟ تالی بجانا تو صرف عورتوں کے لیے ہے اور تسبیح مردوں کے لیے ہے، جسے نماز میں کوئی بات پیش آئے تو وہ ’سبحان اللہ‘ کہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5893
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 176، حدیث 5914
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ: كُنْتُ فِي الْقَوْمِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي قَدْ وَهَبَتُ نَفْسِي لَكَ فَرَأْ فِيَّ رَأْيَكَ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنْكِحْنِيهَا يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ فِيهَا حَاجَةٌ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَتْ، فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنْكِحْنِيهَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ فِيهَا حَاجَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ: «هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ تُعْطِيهَا إِيَّاهُ؟» ، قَالَ: لَا، قَالَ: «فَاذْهَبْ فَاطْلُبْ شَيْئًا» ، فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، قَالَ: «اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ» ، فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟» ، قَالَ: نَعَمْ، سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا، قَالَ: «اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس مجلس میں موجود تھا کہ ایک عورت آپ ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے، آپ میرے بارے میں اپنی رائے پر عمل فرمائیں۔ اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو اس کا نکاح مجھ سے کر دیجیے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ خاموش رہے۔ پھر وہ عورت کھڑی ہوئی اور اس نے وہی بات دہرائی۔ اس پر اس آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو اس کا نکاح مجھ سے کر دیجیے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے جو تم اسے دے سکو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، کچھ تلاش کرو۔“ وہ گیا، پھر واپس آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کچھ نہیں ملا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ تلاش کرو، چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔“ وہ گیا، پھر واپس آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کچھ نہیں ملا، لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں قرآن میں سے کچھ یاد ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں، فلاں فلاں سورت۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، میں نے تمہارے پاس جو قرآن ہے اس کے بدلے تمہارا نکاح اس سے کر دیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5894
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 176، حدیث 5915
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ: اخْتَلَفَ النَّاسُ: بِأَيِّ شَيْءٍ دُووِيَ جُرْحُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَسَأَلُوا سَهْلًا وَكَانَ مِنْ آخِرِ مَنْ بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ: «مَا بَقِيَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، كَانَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَغْسِلُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْتِي بِالْمَاءِ فِي تُرْسِهِ، فَأَخَذَ حَصِيرًا فَأُحْرِقَ، وَحُشِيَ بِهِ جُرْحُهُ»
ترجمہ
ابوحازم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں میں اختلاف ہو گیا کہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے زخم کا علاج کس چیز سے کیا گیا تھا؟ تو انہوں نے سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سے پوچھا، جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے مدینہ میں سب سے آخر تک باقی رہنے والوں میں سے تھے۔ انہوں نے فرمایا: ”مسلمانوں میں اب کوئی ایسا باقی نہیں رہا جو اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتا ہو۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک سے خون دھو رہی تھیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی ڈھال میں پانی لا رہے تھے۔ پھر ایک چٹائی لے کر جلائی گئی اور اسی سے آپ کا زخم بھر دیا گیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5895
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 177، حدیث 5916
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں ایک کوڑے برابر جگہ دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5896
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 177، حدیث 5917