حدیث نمبر: 5888
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَجَاءَ بِلَالٌ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ الصَّلَاةَ قَدْ حَانَتْ، وَحُبِسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَؤُمُّ النَّاسَ؟ قَالَ: إِنْ شِئْتَ، فَأَقَامَ بِلَالٌ الصَّلَاةَ، فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ النَّاسُ فِي التَّصْفِيحِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ الْتَفَتَ، فَإِذَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّفِّ، فَأَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ، فَحَمِدَ اللهَ، ثُمَّ رَجَعَ أَبُو بَكْرٍ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ حَتَّى رَجَعَ فِي الصَّفِّ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، مَا لَكُمْ حِينَ نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي الصَّلَاةِ أَخَذْتُمْ بِالتَّصْفِيحِ، إِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ، فَمَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيَقُلْ: سُبْحَانَ اللهِ، فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا الْتَفَتَ إِلَيْهِ. يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ حِينَ أَشَرْتُ إِلَيْكَ؟ "، قَالَ: مَا كَانَ يَنْبَغِي لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ

اسی سند سے مروی ہے: رسول اللہ ﷺ بنو عمرو بن عوف کی طرف تشریف لے گئے، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا۔ بلال رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: اے ابوبکر! نماز کا وقت ہو گیا ہے اور رسول اللہ ﷺ کو دیر ہو رہی ہے، کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے؟ انہوں نے فرمایا: اگر تم چاہو تو۔ چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کھڑی کر دی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے تو لوگ تالی بجانے لگے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی نماز میں توجہ نہیں پھیرتے تھے، مگر جب لوگوں نے بہت زیادہ تالی بجائی تو انہوں نے مڑ کر دیکھا، تو رسول اللہ ﷺ صف میں کھڑے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے اشارہ کیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اٹھا کر اللہ کی حمد کی، پھر پیچھے کی طرف چل کر صف میں آ گئے۔ رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اے لوگو! تمہیں کیا ہو گیا کہ جب نماز میں کوئی بات پیش آئی تو تم تالی بجانے لگے؟ تالی بجانا تو صرف عورتوں کے لیے ہے، جسے نماز میں کوئی بات پیش آئے تو وہ ’سبحان اللہ‘ کہے، کیونکہ جو بھی اسے سنے گا وہ اس کی طرف متوجہ ہو جائے گا۔ اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں اشارہ کیا تو تمہیں نماز پڑھانے سے کس چیز نے روکا؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے آگے نماز پڑھائے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5888
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 174، حدیث 5909