المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد العزيز بن أبي حازم عن أبيه باب: عبدالعزیز بن ابی حازم کی اپنے والد سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: مَرَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا؟» فَقُلْتُ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِ النَّاسِ، هَذَا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ يُنْكَحَ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ يُشَفَّعَ، وَإِنْ قَالَ أَنْ يُسْمَعَ لِقَوْلِهِ، ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ، فَقَالَ: «مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا؟» ، فقُلْتُ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ، هَذَا حَرِيٌّ إِنْ قَالَ أَنْ لَا يُسْمَعَ لِقَوْلِهِ، وَإِنْ خَطَبَ أَنْ لَا يُنْكَحَ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ لَا يُشَفَّعَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَهَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الْأَرْضِ مِثْلَ هَذَا»سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے ایک شخص گزرا، آپ ﷺ نے اسے دیکھا، پھر پوچھا: ”اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟“ میں نے عرض کیا: یہ شخص معزز لوگوں میں سے ہے، اگر یہ نکاح کا پیغام دے تو اس کا نکاح کر دیا جائے گا، اگر یہ سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے گی، اور اگر یہ کچھ کہے تو اس کی بات سنی جائے گی۔ پھر ایک اور شخص گزرا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟“ میں نے عرض کیا: یہ شخص غریب مسلمانوں میں سے ہے، اگر یہ کچھ کہے تو اس کی بات نہیں سنی جائے گی، اگر یہ نکاح کا پیغام دے تو اس کا نکاح نہیں کیا جائے گا، اور اگر یہ سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہیں کی جائے گی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ اس جیسے زمین بھر لوگوں سے بہتر ہے۔“