المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد العزيز بن أبي حازم عن أبيه باب: عبدالعزیز بن ابی حازم کی اپنے والد سے روایات
حدیث نمبر: 5868
وَبِإِسْنَادِهِ سَأَلْتُ سَهْلًا: هَلْ رَأَيْتَ النِّقْيَ؟ قَالَ: «مَا رَأَيْتُ النِّقْيَ حَتَّى قَبَضَ اللهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، قُلْتُ: هَلْ كَانَتْ لَكُمْ مَنَاخِلُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «مَا رَأَيْتُ مُنْخُلًا حَتَّى قَبَضَ اللهُ رَسُولَهُ» ، قُلْتُ: كَيْفَ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ؟ قَالَ: «نَعَمْ نَنْفُخُهُ، ثُمَّ يَطِيرُ مِنْهُ مَا طَارَ»ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے: میں نے سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے کبھی خالص میدہ دیکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”میں نے اللہ کے رسول ﷺ کی وفات تک کبھی میدہ نہیں دیکھا۔“ میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں آپ کے پاس چھلنیاں تھیں؟ انہوں نے فرمایا: ”میں نے اللہ کے رسول ﷺ کی وفات تک کوئی چھلنی نہیں دیکھی۔“ میں نے پوچھا: پھر آپ بغیر چھنے جو کیسے کھاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں، ہم اسے پھونک مار دیتے تھے، پھر جو بھوسی اڑ جاتی اڑ جاتی۔“