المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد العزيز بن أبي حازم عن أبيه باب: عبدالعزیز بن ابی حازم کی اپنے والد سے روایات
حدیث نمبر: 5883
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «كُنَّا نَفْرَحُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ» ، قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَ: «كَانَتْ لَنَا عَجُوزٌ تُرْسِلُ، فَتَأْخُذُ مِنْ أُصُولِ السِّلْقِ، فَتَطْرَحُهُ فِي قِدْرٍ فَتُكَرْكِرُ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ، فَتَجْعَلُهَا فِيهِ، فَكُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا الْجُمُعَةَ انْصَرَفْنَا إِلَيْهَا، وَكُنَّا نَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ، وَمَا كُنَّا نَقِيلُ، إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ»ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہم جمعہ کے دن خوش ہوا کرتے تھے۔“ میں نے پوچھا: کیوں؟ فرمایا: ”ہمارے ہاں ایک بڑھیا تھی جو چقندر کی جڑیں لے کر ہانڈی میں ڈالتی، پھر جَو کے کچھ دانے پیس کر اس میں شامل کر دیتی، تو جب ہم جمعہ کی نماز پڑھ لیتے تو اسی کے پاس چلے جاتے، اور ہم اسی وجہ سے جمعہ کے دن سے خوش ہوتے تھے، اور ہم جمعہ کے بعد ہی قیلولہ کیا کرتے تھے۔“