حدیث نمبر: 5856
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَيَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ يَحْيَى: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، وَقَالَ سَعِيدٍ: أَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يَفْتَحُ اللهُ عَلَى يَدَيْهِ» ، فَبَاتَ النَّاسُ يَذْكُرُونَ مَنْ يُعْطَاهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَبَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ، وَدَعَا لَهُ فَبَرَأَ مَكَانَهُ حَتَّى كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ شَيْءٌ، فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا؟ قَالَ: «عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ، فَوَاللهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللهُ بِهُدَاكَ رَجُلًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ»
ترجمہ

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو خیبر کے دن فرماتے سنا: ”میں کل یہ جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا۔“ لوگ رات بھر یہی باتیں کرتے رہے کہ یہ کسے دیا جائے گا۔ جب صبح ہوئی تو سب لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس صبح سویرے پہنچ گئے، ہر ایک کو امید تھی کہ وہ اسے دیا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! ان کی آنکھیں دکھتی ہیں۔ آپ ﷺ نے انہیں بلوایا، ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا اور ان کے لیے دعا کی تو وہ فوراً ٹھیک ہو گئیں گویا انہیں کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ آپ ﷺ نے انہیں جھنڈا عطا فرمایا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں ان سے اس وقت تک لڑوں جب تک وہ ہم جیسے نہ ہو جائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اطمینان سے آگے بڑھو یہاں تک کہ تم ان کے میدان میں اتر جاؤ، پھر انہیں اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ اس میں ان پر کون سے حقوق واجب ہوں گے۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ تمہاری وجہ سے کسی ایک شخص کو ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5856
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 167، حدیث 5877