المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد العزيز بن أبي حازم عن أبيه باب: عبدالعزیز بن ابی حازم کی اپنے والد سے روایات
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ يَسْأَلُ عَنِ الْمِنْبَرِ: مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ؟ فَقَالَ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلَانَةَ، امْرَأَةٍ سَمَّاهَا، فَقَالَ: «مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ يَعْمَلُ لِي أَعْوَادًا أُكَلِّمُ النَّاسَ عَلَيْهَا» ، فَعَمِلَ لَهُ هَذِهِ الثَّلَاثَ الدَّرَجَاتِ مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي الدَّرَجَاتِ - فَوُضِعَتْ بِهَذَا الْمَوْضِعِ، قَالَ سَهْلٌ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهَا فَكَبَّرَ، وَكَبَّرَ النَّاسُ خَلْفَهُ، ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَنَزَلَ الْقَهْقَرَى، فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَ حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِ صَلَاتِهِ، يَصْنَعُ فِيهَا كَمَا صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، فَلَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا فَعَلْتُ هَذِهِ لِتَأْتَمُّوا بِي، وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِي»ابوحازم کے والد بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے منبر کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ کس لکڑی کا بنا تھا؟ تو انہوں نے بتایا: رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت کی طرف پیغام بھیجا جسے آپ ﷺ نے نام لے کر بلایا اور فرمایا: ”اپنے بڑھئی غلام سے کہو کہ میرے لیے چند تختے بنا دے جن پر بیٹھ کر میں لوگوں سے بات کروں۔“ چنانچہ اس نے آپ ﷺ کے لیے جنگل کی جھاؤ کی لکڑی سے یہ تین درجے بنائے۔ نبی کریم ﷺ نے حکم دیا تو انہیں اس جگہ رکھا گیا۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ پہلے دن جب آپ اس پر بیٹھے تو تکبیر کہی اور لوگوں نے آپ کے پیچھے تکبیر کہی، پھر آپ نے منبر ہی پر رکوع کیا، پھر سر اٹھایا، پھر پیچھے کی طرف اترے اور منبر کے پائے کے پاس سجدہ کیا، پھر واپس اوپر چڑھے یہاں تک کہ اپنی نماز پوری کر لی، دوسری رکعت میں بھی ویسا ہی کیا جیسا پہلی رکعت میں کیا تھا۔ جب نبی کریم ﷺ فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اے لوگو! میں نے یہ اس لیے کیا کہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز سیکھ لو۔“