حدیث نمبر: 5863
وعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً - وَلَيْسَ فِيهَا دَنِيٌّ - الَّذِي يَتَمَنَّى، فَيَقُولُ بِلِسَانٍ طَلْقٍ ذَلْقٍ، وَعَقَلٍ مُجْتَمِعٍ: أَعْطِنِي أَعْطِنِي كَذَا، حَتَّى إِذَا لَمْ يَجِدْ شَيْئًا لُقِّنَ، فَقِيلَ لَهُ: قُلْ: كَذَا، قُلْ: كَذَا، فَيُقَالُ لَهُ: هُوَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ "
ترجمہ

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں سب سے کم درجے والا شخص - حالانکہ وہاں کوئی کمتر نہیں ہوگا - وہ ہوگا جو تمنائیں کرے گا اور صاف رواں زبان اور جمع شدہ عقل کے ساتھ کہے گا: مجھے یہ عطا کر، مجھے وہ عطا کر، یہاں تک کہ جب اسے مانگنے کے لیے کچھ نہیں سوجھے گا تو اسے سکھایا جائے گا، اس سے کہا جائے گا: یہ کہو، یہ کہو، پھر اس سے کہا جائے گا: یہ سب تیرے لیے ہے اور اس کے برابر مزید بھی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5863
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 169، حدیث 5884