المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد العزيز بن أبي حازم عن أبيه باب: عبدالعزیز بن ابی حازم کی اپنے والد سے روایات
حدیث نمبر: 5869
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ فَشَرِبَ مِنْهُ، وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ أَحْدَثُ الْقَوْمِ، وَالْأَشْيَاخُ عَنْ يَسَارِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: «يَا غُلَامُ، أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ الْأَشْيَاخَ؟» ، فَقَالَ الْغُلَامُ: مَا كُنْتُ لِأُوثِرَ بِفَضْلِكَ أَحَدًا، فَتَلَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في يَدِ الْغُلَامِترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس پانی کا ایک پیالہ لایا گیا، آپ ﷺ نے اس میں سے پیا، آپ کے دائیں طرف ایک نوجوان لڑکا تھا جو قوم میں سب سے کم عمر تھا اور آپ کے بائیں طرف بزرگ لوگ تھے۔ جب آپ ﷺ پی چکے تو فرمایا: ”اے لڑکے! کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں یہ بزرگوں کو دے دوں؟“ لڑکے نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کے بچے ہوئے پانی میں کسی کو اپنے اوپر ترجیح نہیں دوں گا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے وہ پیالہ اسی لڑکے کے ہاتھ میں تھما دیا۔