حدیث نمبر: 5886
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، جِئْتُ أَهَبُ لَكَ نَفْسِي، فَقَامَتْ طَوِيلًا لَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَعَّدَ فِيهَا النَّظَرَ وَصَوَّبَهُ، فَلَمَّا طَالَ مُقَامُهَا تَنَحَّتْ وَجَلَسَتْ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ؟» ، قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «اذْهَبْ فَانْظُرْ» ، فَذَهَبَ، ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، قَالَ: «اذْهَبْ فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ» ، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: لَا وَاللهِ مَا وَجَدْتُ وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، قَالَ وَعَلَيْهِ إِزَارٌ مَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِزَارِي، قَالَ: " إِنَّ إِزَارَكَ، إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَيْءٌ، فَتَنَحَّى الرَّجُلُ، ثُمَّ قَامَ فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا، فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ، فَقَالَ: «مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟» ، قَالَ: سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا، لِسُوَرٍ عَدَّدَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ»
ترجمہ

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں... جب اس عورت کا کھڑا رہنا طویل ہو گیا تو وہ ہٹ کر بیٹھ گئی۔ اس پر مجلس میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو اس کا نکاح مجھ سے کر دیجیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے جو تم اسے مہر میں دے سکو؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور دیکھو۔“ وہ گیا، پھر واپس آ کر عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم یا رسول اللہ! مجھے کچھ نہیں ملا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ تلاش کرو، چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔“ وہ گیا، پھر واپس آ کر عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم، مجھے کچھ نہیں ملا، لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں۔ راوی کہتے ہیں: اس پر صرف تہبند تھا، چادر نہیں تھی۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میرا یہی تہبند۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا تہبند تو ایسا ہے کہ اگر تم اسے پہنو تو اس پر اس میں سے کچھ نہیں رہے گا، اور اگر یہ اسے پہنے تو تم پر اس میں سے کچھ نہیں رہے گا۔“ وہ شخص ایک طرف ہٹ گیا، پھر کھڑا ہوا تو نبی کریم ﷺ نے اسے واپس جاتے دیکھا، آپ ﷺ نے اسے بلوایا اور پوچھا: ”تمہیں قرآن میں سے کیا یاد ہے؟“ اس نے عرض کیا: فلاں فلاں سورتیں، اور اس نے کئی سورتوں کے نام گنوائے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، میں نے تمہارے پاس جو قرآن ہے اس کے بدلے اسے تمہارے نکاح میں دے دیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5886
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 173، حدیث 5907