المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد العزيز بن أبي حازم عن أبيه باب: عبدالعزیز بن ابی حازم کی اپنے والد سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْدَةٍ مَنْسُوجَةٍ مِنْهَا حَاشِيَتُهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدَيَّ فَجِئْتُ بِهَا لِأَكْسُوَكَهَا، فَجَسَّهَا فُلَانٌ - رَجُلٌ سَمَّاهُ -، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَحْسَنَ هَذِهِ الْبُرْدَةَ، اكْسُنِيهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، فَلَمَّا دَخَلَ طَوَاهَا، وَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ الْقَوْمُ: وَاللهِ مَا أَحْسَنْتَ، كُسِيَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، ثُمَّ سَأَلْتَهُ إِيَّاهَا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا يَرُدُّ سَائِلًا؟ فَقَالَ: وَاللهِ مَا سَأَلْتُهُ إِيَّاهَا لِأَلْبَسَهَا، وَلَكِنِّي سَأَلْتُهُ إِيَّاهَا لِتَكُونَ كَفَنِي يَوْمَ أَمُوتُ، قَالَ سَهْلٌ: «وَكَانَتْ كَفَنَهُ يَوْمَ مَاتَ»سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس ایک بنی ہوئی چادر لائی جس کا حاشیہ بھی اسی میں بنا ہوا تھا، اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے ہاتھوں سے یہ چادر بنی ہے، میں اسے آپ کو پہنانے کے لیے لائی ہوں۔ پھر ایک شخص نے، جس کا راوی نے نام لیا، اسے چھو کر کہا: یا رسول اللہ! یہ چادر کتنی اچھی ہے، مجھے پہنا دیجیے! آپ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ جب آپ ﷺ اندر تشریف لے گئے تو اسے تہہ کیا اور اس شخص کے پاس بھیج دیا۔ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے اچھا نہیں کیا، رسول اللہ ﷺ کو یہ چادر پہنائی گئی تھی جبکہ آپ ﷺ کو اس کی ضرورت تھی، اور تمہیں معلوم تھا کہ آپ کبھی مانگنے والے کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے، پھر بھی تم نے یہ آپ سے مانگ لی؟ اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے یہ اس لیے نہیں مانگی کہ میں اسے پہنوں، بلکہ میں نے یہ اس لیے مانگی تاکہ یہ میرے مرنے کے دن میرا کفن بنے۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”پھر جب وہ فوت ہوا تو یہی اس کا کفن بنی۔“