المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
العباس بن سهل بن سعد عن أبيه باب: عباس بن سہل بن سعد کی اپنے والد سے روایات
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَقْبَلَ مِنْ تَبُوكَ، وَكَانَ عَلَى الثَّنِيَّةِ، قَالَ: «اللهُ أَكْبَرُ» فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى أُحُدٍ قَالَ: «هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ» ، ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ: «هَلْ تُحِبُّونَ أَنْ أُخْبِرَكُمْ بِدُورِ الْأَنْصَارِ؟» ، قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ عَبْدُ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ دَارُ بَلْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ» ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، جَعَلْتَنَا آخِرَ الْقَبَائِلِ؟ فَقَالَ: «إِذَا كُنْتَ مِنَ الْخِيَارِ فَحَسْبُكَ» ، وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ أَبِي مُصْعَبٍسیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب تبوک سے واپس تشریف لائے اور گھاٹی پر تھے تو فرمایا: ”اللہ اکبر۔“ پھر جب احد پر نظر پڑی تو فرمایا: ”یہ ایک ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔“ پھر متوجہ ہو کر فرمایا: ”کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں تمہیں انصار کے بہترین گھرانوں کے بارے میں بتاؤں؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”انصار کے بہترین گھرانے بنو عبدالاشہل ہیں، پھر بنو حارث بن خزرج کا گھرانا، پھر بنو نجار کا گھرانا، پھر بنو ساعدہ کا گھرانا۔“ اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ہمیں سب قبیلوں میں آخر پر رکھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم بہترین لوگوں میں سے ہو تو یہی تمہارے لیے کافی ہے۔“ - اور یہ الفاظ ابومصعب کی روایت کے ہیں۔