المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
العباس بن سهل بن سعد عن أبيه باب: عباس بن سہل بن سعد کی اپنے والد سے روایات
حدیث نمبر: 5712
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَسْلَمِيُّ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ سَهْلٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ بَالخَنْدَقِ، فَأَخَذَ الْكِرْزِينَ، فَحَفَرَ بِهِ، فَصَادَفَ حَجَرًا فَضَحِكَ، فَقِيلَ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «ضَحِكْتُ مِنْ نَاسٍ يَأْتُونَكُمْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، ويُسَاقُونَ إِلَى الْجَنَّةِ وَهُمْ كَارِهُونَ»ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں خندق کے موقع پر نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا، آپ ﷺ نے کدال پکڑ کر کھدائی کی، تو ایک پتھر آ گیا، آپ ﷺ ہنس پڑے۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ کس چیز پر ہنسے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں ان لوگوں پر ہنسا جو تمہارے پاس مشرق کی طرف سے آئیں گے، اور جنت کی طرف ہانکے جائیں گے جبکہ وہ ناپسند کرنے والے ہوں گے۔“