المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
العباس بن سهل بن سعد عن أبيه باب: عباس بن سہل بن سعد کی اپنے والد سے روایات
حدیث نمبر: 5711
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَنِدُ إِلَى جِذْعٍ، فَلَمَّا كَثُرَ النَّاسُ قَالَ: «إِنَّ النَّاسَ قَدْ كَثُرُوا، فَلَوْ كَانَ مِنْبَرٌ أَقْعُدُ عَلَيْهِ» ، قَالَ عَبَّاسٌ: فَذَهَبَ أَبِي فَقَطَعَ عِيدَانَ الْمِنْبَرِ مِنَ الْغَابَةِ، فَلَا أَدْرِي عَمِلَهَا أَوِ اسْتَعْمَلَهَاترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک کھجور کے تنے سے ٹیک لگایا کرتے تھے، پھر جب لوگ زیادہ ہو گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ بہت ہو گئے ہیں، کاش کوئی منبر ہوتا جس پر میں بیٹھتا۔“ عباس کہتے ہیں: تو میرے والد گئے اور منبر کی لکڑیاں غابہ سے کاٹ لائے، مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے خود اسے بنایا یا کسی اور سے بنوایا۔