حدیث نمبر: 5703
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَرَاجَعَ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ وَارْتَفَعَ صَوْتُهُ، وَثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قَائِمٌ بِسَيْفِهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَقَالَ: يَا عَامِرُ، غُضَّ مِنْ صَوْتِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَقَالَ: وَمَا أَنْتَ وَذَاكَ؟ فَقَالَ ثَابِتٌ: أَمَا وَالَّذِي أَكْرَمَهُ، لَوْلَا أَنْ يَكْرَهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، لَضَرَبْتُ بِهَذَا السَّيْفِ رَأْسَكَ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ عَامِرٌ وَهُوَ جَالِسٌ وَثَابِتٌ قَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ: أَمَا وَاللهِ يَا ثَابِتُ، لَئِنْ عُرِضَتْ نَفْسُكَ لِي لَتُوَلِّيَنَّ عَنِّي، فَقَالَ ثَابتٌ: أَمَا وَاللهِ يَا عَامِرُ، لَئِنْ عُرِضَتْ نَفْسُكَ لِلِسَانِي لَتَكَرَهَنَّ حَيَاتِي، فَعَطَسَ ابْنُ أَخٍ لِعَامِرٍ، فَحَمِدَ اللهَ، فَشَمَّتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَطَسَ عَامِرٌ، فَلَمْ يَحْمَدِ اللهَ، فَلَمْ يُشَمِّتْهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَقَالَ عَامِرٌ: شَمَّتَّ هَذَا الصَّبِيَّ وَتَرَكْتَنِي؟ قَالَ: «إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللهَ» ، فَقَالَ: فَمَحْلُوفَةٌ، لَأَمْلَأَنَّهَا عَلَيْكَ خَيْلًا وَرِجَالًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «يَكْفِينِيكَ اللهُ وَابْنَا قِيْلَةَ» ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِرٌ، فَجَمَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ أَبْطُنٌ ثَلَاثَةٌ، هُمُ الَّذِينَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عَلَيْهِمْ: عُصَيَّةُ وَذَكْوَانُ وَرِعْلٌ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عَلَيْهِمْ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ: «اللهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانًا وَرِعْلًا وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللهَ وَرَسُولَهُ، اللهُ أَكْبَرُ» ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، فَلَمَّا سَمِعَ أَنَّ عَامِرًا قَدْ جَمَعَ لَهُ، بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ وسَائِرُهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ وَأَمِيرُهُمُ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو، فَمَضَوْا حَتَّى نَزَلُوا بِئْرَ مَعُونَةَ، فَأَقْبَلَ، حَتَّى هَجَمَ عَلَيْهِمْ، فَقَتَلَهُمْ كُلَّهُمْ، فَلَمْ يُفْلِتْ مِنْهُمْ إِلَّا عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ، كَانَ فِي الرِّكَابِ، فَأَوْحَى اللهُ إِلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَومَ قُتِلُوا خَبَرَ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: «قَدْ قُتِلَ أَصْحَابُكُمْ فَرُوا رَأْيَكُمْ» ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَامِرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «اللهُمَّ اكْفِنِي عَامِرًا» ، فَكَفَاهُ اللهُ إِيَّاهُ، فَأَقْبَلَ حَتَّى نَزَلَ بِفِنَائِهِ، فَرَمَاهُ اللهُ بَالذَّبْحَةِ فِي حَلْقِهِ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ سَلُولٍ، وَأَقْبَلَ يَنْزُو وَهُوَ يَقُولُ: يَا لِعَامِرٍ مِنْ غُدَّةٍ كَغُدَّةِ الْجَمَلِ، فِي بَيْتِ سَلُولِيَّةٍ، يَرْغَبُ أَنْ يَمُوتَ فِي بَيْتِهَا، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى مَاتَ فِي بَيْتِهَا، وَكَانَ أَرْبَدُ بْنُ قَيْسٍ أَصَابَتْهُ صَاعِقَةٌ فَاحْتَرَقَ فَمَاتَ، وَرَجَعَ مَنْ كَانَ مَعَهُمْ
ترجمہ

…نبی کریم ﷺ نے اس (لڑکے) کا جواب دیا، پھر عامر کو چھینک آئی تو اس نے الحمد للہ نہ کہا، تو نبی کریم ﷺ نے اسے جواب نہ دیا۔ عامر نے کہا: آپ نے اس بچے کا جواب دیا اور مجھے چھوڑ دیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے اللہ کی حمد بیان کی تھی۔“ اس پر اس نے کہا: قسم ہے! میں اسے گھوڑوں اور سواروں سے بھر دوں گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اور قَیلہ کے دونوں بیٹے (اوس و خزرج) مجھے تیرے شر سے کافی ہیں۔“ پھر عامر نکلا اور نبی کریم ﷺ کے خلاف لشکر جمع کیا، تو بنو سلیم کے تین قبیلے اس کے ساتھ جمع ہو گئے، یہی وہ تھے جن پر رسول اللہ ﷺ بددعا کیا کرتے تھے: عُصیہ، ذکوان اور رِعل۔ نبی کریم ﷺ فجر کی نماز میں ان پر یہ بددعا کیا کرتے تھے: ”اے اللہ! لحیان، رِعل، ذکوان اور عُصیہ پر لعنت فرما، انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، اللہ اکبر۔“ نبی کریم ﷺ نے سترہ راتوں تک یہ بددعا کی۔ پھر جب آپ ﷺ نے سنا کہ عامر نے آپ ﷺ کے خلاف لشکر جمع کر لیا ہے، تو نبی کریم ﷺ نے ان کی طرف عمرو بن امیہ ضمری اور باقی انصار کو بھیجا، اور ان کے امیر منذر بن عمرو تھے۔ وہ چل کر بئرِ معونہ پر اترے، تو وہ دشمن آ گیا یہاں تک کہ ان پر اچانک حملہ کر دیا اور ان سب کو قتل کر دیا، ان میں سے کوئی نہ بچا سوائے عمرو بن امیہ کے، جو رکاب میں تھے۔ اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو، جس دن وہ قتل ہوئے، اسی دن اپنے ساتھیوں کی خبر کی وحی فرمائی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے ساتھی شہید کر دیے گئے ہیں، اپنی رائے پیش کرو۔“ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے عامر کے خلاف بددعا فرمائی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! عامر کے شر سے مجھے کافی ہو جا۔“ تو اللہ نے اسے اس کے شر سے کافی ہو گیا۔ چنانچہ وہ آیا یہاں تک کہ اپنے صحن میں اترا، تو اللہ نے اس کے گلے میں غدود کی بیماری ڈال دی، بنو سلول کی ایک عورت کے گھر میں۔ اور وہ اچھلتا ہوا کہتا رہا: ”ہائے عامر! اونٹ کی سی غدود کی بیماری، ایک سلولی عورت کے گھر میں!“ وہ چاہتا تھا کہ اسی کے گھر میں مر جائے، چنانچہ وہ اسی حال میں رہا یہاں تک کہ اسی کے گھر میں مر گیا۔ اور اربد بن قیس کو بجلی نے آ لیا تو وہ جل کر مر گیا، اور جو ان کے ساتھ تھے وہ واپس لوٹ آئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5703
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 125، حدیث 5724