المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
العباس بن سهل بن سعد عن أبيه باب: عباس بن سہل بن سعد کی اپنے والد سے روایات
حدیث نمبر: 5709
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ، وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخَذَ الرَّايَةَ فَقَالَ: «أُعْطِي هَذِهِ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ» ، فَتَطَاوَلَ النَّاسُ يَنْظُرُونَ مَنْ يُعْطِيهَا فَدَعَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَعَلِيٌّ أَرْمَدُ، فَبَصَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ، ثُمَّ أَعْطَاهَا إِيَّاهُ، فَفَتَحَ اللهُ عَلَيْهِترجمہ
اسی سند سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب خیبر کا دن تھا اور ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے، تو آپ ﷺ نے جھنڈا اٹھایا اور فرمایا: ”یہ جھنڈا میں اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔“ لوگ گردنیں اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے کہ آپ ﷺ یہ کسے دیتے ہیں، تو آپ ﷺ نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بلایا، جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آنکھیں دُکھ رہی تھیں، تو نبی کریم ﷺ نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایا، پھر انہیں جھنڈا دے دیا، تو اللہ نے ان کے ہاتھوں فتح عطا فرمائی۔