❮
❯
حدیث نمبر: 5718
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، - قَالَ حَمَّادٌ: ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا حَازِمٍ فَحَدَّثَنِي بِهِ، فَلَمْ أُنْكِرْ مِمَّا حَدَّثَنِي بِهِ شَيْئًا - فَذَكَرَ حَدِيثَ الصَّلَاةِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «إِذَا نَابَكُمْ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ، فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ، ولْتُصَفِّقِ النِّسَاءُ»
ترجمہ

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ امام حماد کہتے ہیں: پھر میں ابوحازم سے ملا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی، اور میں نے ان سے سنی حدیث میں سے کسی چیز کا انکار نہیں کیا۔ راوی نے پھر نماز کی حدیث بیان کی، اس میں ہے: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن ابی قحافہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی امامت کرے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز میں تمہیں کوئی بات پیش آئے تو مرد سبحان اللہ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5718
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 129، حدیث 5739