عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ : حَدَّثَنَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَيُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الشَّامُ ، فَإِذَا خُيِّرْتُمُ الْمُنَازِلَ فِيهَا فَعَلَيْكُمْ بِمَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا : دِمَشْقُ ; فَإِنَّهَا مَعْقِلُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمَلَاحِمِ ، وَفِسْطَاطُهَا مِنْهَا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا : الْغُوطَةُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے ، ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” عنقریب تمہارے لئے شام فتح ہو جائے گا ، جب تمہیں اس میں رہائشی جگہ کے بارے میں اختیار دیا جائے تو تم پر اس شہر میں رہنا لازم ہے ، جس کا نام ” دمشق “ ہو گا ، کیونکہ وہ جنگوں میں ، مسلمانوں کی چھاؤنی ہو گا ، اور اس میں سے ان کا خیمہ اُس جگہ پر ہو گا ، جس کا نام ” غوطہ “ ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن مریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن مریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أَتَتْنِي مَلَائِكَةٌ ، فَحَمَلَتْ عَمُودَ الْكِتَابِ مِنْ تَحْتِ وِسَادَتِي ، فَعَمَدَتْ بِهِ إِلَى الشَّامِ ، أَلَا فَالْإِيمَانُ حِينَ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک مرتبہ میں سو رہا تھا ، فرشتے میرے پاس آئے اور انہوں نے میرے تکیہ کے نیچے سے کتاب کا ستون اٹھا لیا اور اسے لے کر شام کی طرف چلے گئے ، خبردار ! جب فتنے واقع ہوں گے تو ایمان شام میں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ رَأَيْتُ عَمُودَ الْكِتَابِ احْتُمِلَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِي ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ مَذْهُوبٌ بِهِ ، فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِي ، فَعُمِدَ بِهِ إِلَى الشَّامِ ، أَلَا وَإِنَّ الْإِيمَانَ حِينَ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں سو رہا تھا اس دوران میں نے کتاب کے ستون کو دیکھا کہ اُسے میرے سر کے نیچے سے اٹھا لیا گیا ، میں نے یہ گمان کیا کہ شاید اسے لے جایا جائے گا ، میں نے اس کے پیچھے نگاہ رکھی ، تو اس کو شام کی طرف لے جایا گیا ، خبردار ! جب فتنے واقع ہوں گے تو ایمان شام میں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ عَمُودَ الْكِتَابِ احْتُمِلَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِي ، فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِي ، فَإِذَا هُوَ قَدْ عُمِدَ بِهِ إِلَى الشَّامِ ، أَلَا وَإِنَّ الْإِيمَانَ إِذَا كَانَتِ الْفِتَنُ بِالشَّامِ " . ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں سو رہا تھا ، میں نے کتاب کے ستون کو دیکھا کہ اسے میرے سر کے نیچے سے اٹھا لیا گیا ، میں نے اس کے پیچھے نگاہ دوڑائی ، تو اسے شام کی طرف لے جایا جا رہا تھا ، خبردار ! جب فتنے ہوں گے تو ایمان شام میں ہو گا ۔ “ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : " إِذَا وَقَعَتِ الْفِتَنُ فَالْأَمْنُ بِالشَّامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ ، وَفِي أَحَدِهَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَقَدْ تُوبِعَ عَلَى هَذَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جب فتنے واقع ہوں گے تو امن شام میں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے ایک سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت میں اس کی متابعت کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے ایک سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت میں اس کی متابعت کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رَأَيْتُ عَمُودَ الْكِتَابِ انْتُزِعَ مِنْ تَحْتِ وِسَادَتِي ، فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِي ، فَإِذَا هُوَ نُورٌ سَاطِعٌ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ قَدْ هَوِيَ بِهِ ، فَعُمِدَ بِهِ إِلَى الشَّامِ ، وَإِنِّي أَوَّلْتُ أَنَّ الْفِتَنَ إِذَا وَقَعَتْ إِنَّ الْإِيمَانَ بِالشَّامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں نے کتاب کے ستون کو دیکھا کہ اُسے میرے تکیے کے نیچے سے نکالا گیا ، میں نے اس کی طرف نگاہ رکھی ، تو وہ ایک چمکتا ہوا نور تھا ، یہاں تک کہ مجھے یہ گمان ہوا کہ شاید اُسے لے جایا جائے گا ، تو اسے شام کی طرف لے جایا گیا ، میں نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ جب فتنے واقع ہوں گے ، تو ایمان شام میں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسَرِيَ بِي عَمُودًا أَبْيَضَ كَأَنَّهُ لُؤْلُؤَةٌ تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ ، قَلْتُ : مَا تَحْمِلُونَ ؟ فَقَالُوا : عَمُودُ الْكِتَابِ ، أُمِرْنَا أَنْ نَضَعَهُ بِالشَّامِ ، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، ثُمَّ رَأَيْتُ عَمُودَ الْكِتَابِ اخْتُلِسَ مِنْ تَحْتِ وِسَادَتِي فَظَنَنْتُ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - تَخَلَّى مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ ، فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِي ، فَإِذَا هُوَ نُورٌ سَاطِعٌ بَيْنَ يَدَيَّ حَتَّى وُضِعَ بِالشَّامِ " . فَقَالَ ابْنُ حَوَالَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خِرْ لِي ؟ قَالَ : " عَلَيْكَ بِالشَّامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس رات مجھے معراج کروائی گئی ، میں نے ایک سفید ستون دیکھا جو جھلملاتا ہوا موتی تھا ، اسے فرشتوں نے اٹھایا ہوا تھا ، میں نے دریافت کیا : تم نے کیا اُٹھایا ہوا ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ کتاب کا ستون ہے ، ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم اسے شام میں نصب کریں ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : ” ایک مرتبہ میں سو رہا تھا ، میں نے کتاب کے ستون کو دیکھا کہ اُسے میرے تکیے کے نیچے سے نکال لیا گیا ، میں نے یہ گمان کیا کہ شاید اس کو اہل زمین سے الگ کر دیا جائے گا ، میں نے اس کے پیچھے نگاہ رکھی ، تو وہ میرے سامنے ایک چمکتے ہوئے نور کی مانند تھا ، یہاں تک کہ اس کو شام میں رکھ دیا گیا ۔ “ سیدنا ابن حوالہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے ( کوئی شہر یا علاقہ ) تجویز کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم پر شام میں رہنا لازم ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف صالح بن رستم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف صالح بن رستم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّكُمْ سَتُجَنَّدُونَ أَجْنَادًا : جُنْدٌ بِالشَّامِ ، وَمِصْرَ ، وَالْعِرَاقِ ، وَالْيَمَنِ " . قَالُوا : فَخِرْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ " . قَالُوا : إِنَّا أَصْحَابُ مَاشِيَةٍ ، وَلَا نُطِيقُ الشَّامَ ، قَالَ : " فَمَنْ لَمْ يُطِقِ الشَّامَ فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ ; فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَقَالَ : " فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ ، وَلْيُسْقَ مِنْ غَدْرِهِ " . وَفِيهِمَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُقْبَةَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَفِيهِ خِلَافٌ لَا يَضُرُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :
” عنقریب تم لوگ مختلف لشکر پاؤ گے ، شام میں ، مصر میں ، عراق میں ، یمن میں ، ایک ایک لشکر ہوں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لئے کوئی اختیار کر دیں ( یعنی تجویز کر دیں ) ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگوں پر شام میں رہنا لازم ہے ۔ “
لوگوں نے عرض کی : ہم مال مویشی والے لوگ ہیں ، ہم شام میں رہنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
” جو شخص شام میں رہنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اسے یمن چلے جانا چاہیے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شام کے بارے میں ضمانت دی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :
” اسے یمن چلے جانا چاہیے اور وہاں کے کنووں سے سیرابی حاصل کرنی چاہیے ۔ “
ان دونوں روایات میں ایک راوی سلیمان بن عتبہ ہے جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
” عنقریب تم لوگ مختلف لشکر پاؤ گے ، شام میں ، مصر میں ، عراق میں ، یمن میں ، ایک ایک لشکر ہوں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لئے کوئی اختیار کر دیں ( یعنی تجویز کر دیں ) ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگوں پر شام میں رہنا لازم ہے ۔ “
لوگوں نے عرض کی : ہم مال مویشی والے لوگ ہیں ، ہم شام میں رہنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
” جو شخص شام میں رہنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اسے یمن چلے جانا چاہیے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شام کے بارے میں ضمانت دی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :
” اسے یمن چلے جانا چاہیے اور وہاں کے کنووں سے سیرابی حاصل کرنی چاہیے ۔ “
ان دونوں روایات میں ایک راوی سلیمان بن عتبہ ہے جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَكُونُ بِالشَّامِ جُنْدٌ ، وَبِالْيَمَنِ جُنْدٌ " . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خِرْ لِي ؟ قَالَ : " عَلَيْكَ بِالشَّامِ ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَسْوَارِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک لشکر شام میں ہو گا اور ایک لشکر یمن میں ہو گا ، ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے اختیار کر دیں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پر شام میں رہنا لازم ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شام اور اہل شام کے بارے میں مجھے ضمانت دی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ادریس اسواری ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ادریس اسواری ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ الْأَزْدِيِّ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خِرْ لِي بَلَدًا أَكُونُ فِيهِ ، فَلَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَبْقَى لَمْ أَخْتَرْ عَنْ قُرْبِكَ شَيْئًا . فَقَالَ : " عَلَيْكَ بِالشَّامِ " . فَلَمَّا رَأَى كَرَاهِيَتِي لِلشَّامِ قَالَ : " أَتَدْرِي مَا يَقُولُ اللَّهُ فِي الشَّامِ ؟ إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : يَا شَامُ ، أَنْتِ صَفْوَتِي مِنْ بِلَادِي ، أُدْخِلُ فِيكِ خِيرَتِي مِنْ عِبَادِي . إِنَّ اللَّهَ قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ " . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حوالہ ازدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لیے کوئی شہر اختیار کر دیں ( یعنی تجویز کر دیں ) جس میں ، میں رہوں ، اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ آپ باقی رہیں گے تو میں نے آپ کے قرب کو چھوڑ کر اور کوئی چیز اختیار نہیں کرنی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پر شام میں رہنا لازم ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ملاحظہ کی کہ میں شام کو ناپسند کرتا ہوں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم یہ بات جانتے ہو ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے شام کے بارے میں کیا فرمایا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : ” اے شام ! تم میرے شہروں میں میرے منتخب کردہ ہو اور میں تم میں اپنے بندوں میں سے بہترین لوگوں کو داخل کروں گا ، ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) اللہ تعالیٰ نے شام اور اہل شام کے بارے میں ، مجھے ضمانت دی ہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابوداؤد نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف صالح بن رستم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابوداؤد نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف صالح بن رستم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ : عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَامَ يَوْمًا فِي النَّاسِ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، تُوشِكُونَ أَنْ تَكُونُوا أَجْنَادًا مُجَنَّدَةً ، جُنْدٌ بِالشَّامِ ، وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ ، وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ " . فَقَالَ ابْنُ حَوَالَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ الزَّمَانُ فَاخْتَرْ لِي ، قَالَ : " إِنِّي أَخْتَارُ لَكَ الشَّامَ ; فَإِنَّهُ خِيرَةُ الْمُسْلِمِينَ ، وَصَفْوَةُ اللَّهِ مِنْ بِلَادِهِ ، يَجْتَبِي إِلَيْهَا صَفْوَتِهِ مِنْ خَلْقِهِ ، فَمَنْ أَبَى فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ ، وَلْيُسْقَ مِنْ غَدْرِهِ ; فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک دن آپ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے لوگو ! عنقریب ایسا وقت آئے گا جب تم مختلف لشکروں میں تقسیم ہو جاؤ گے ، ایک لشکر شام میں ہو گا ، ایک لشکر عراق میں ہو گا ، ایک لشکر یمن میں ہو گا ، تو سیدنا ابن حوالہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں وہ زمانہ پاؤں ، تو آپ میرے لئے ( ان میں سے کسی ایک کو ) اختیار کر دیں ( یعنی تجویز کر دیں ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہارے لئے شام کو اختیار کرتا ہوں کیونکہ وہ بہترین مسلمانوں کا علاقہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے شہروں میں ، اللہ تعالیٰ کا منتخب کردہ ہے ، اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے برگزیدہ بندوں کو اس کی طرف بھیجے گا ، جو شخص نہیں مانتا اسے یمن چلے جانا چاہیے اور وہاں کے کنووں سے سیرابی حاصل کرنی چاہیے ، بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے شام اور اہل شام کے بارے میں ضمانت دی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَجَنَّدَ النَّاسُ أَجْنَادًا ، جُنْدٌ بِالْيَمَنِ ، وَجُنْدٌ بِالشَّامِ ، وَجُنْدٌ بِالْمَشْرِقِ ، وَجُنْدٌ بِالْمَغْرِبِ " . فَقَالَ رَجُلٌ : مَرْحَبًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خِرْ لِي ، فَإِنِّي فَتًى شَابٌّ ، فَلَعَلِّي أُدْرِكُ ذَلِكَ ، فَأَيُّ ذَلِكَ تَأْمُرُنِي ؟ فَقَالَ : " عَلَيْكَ بِالشَّامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَفِيهِمَا الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ الطَّرِيقَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگ مختلف گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے ، ایک لشکر یمن میں ہو گا ، ایک لشکر شام میں ہو گا ، ایک لشکر مشرق میں ہو گا ، ایک لشکر مغرب میں ہو گا ، ایک صاحب نے عرض کی : آپ کو خوش آمدید ہے ، یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے اختیار کر لیں ( یعنی کوئی تجویز کر دیں ) کیونکہ میں ایک نوجوان شخص ہوں ، ہو سکتا ہے ، میں اس طرح کی صورتحال پا لوں ، تو آپ مجھے اس بارے میں کیا ہدایت کرتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پر شام جانا لازم ہے ۔ “ یہی روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں دو حوالوں سے نقل کی ہے ، ان دونوں میں ایک راوی مغیرہ بن زیاد ہے اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ، دونوں طریقوں میں سے ایک کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ لِحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَهُمَا يَسْتَشِيرَانِهِ فِي الْمَنْزِلِ ، فَأَوْمَأَ إِلَى الشَّامِ . ثُمَّ سَأَلَاهُ فَأَوْمَأَ إِلَى الشَّامِ . ثُمَّ سَأَلَاهُ فَأَوْمَأَ إِلَى الشَّامِ قَالَ : " عَلَيْكُمَا بِالشَّامِ ; فَإِنَّهَا صَفْوَةُ بِلَادِ اللَّهِ ، يَسَكُنُهَا خِيرَتُهُ مِنْ خَلْقِهِ ، فَمَنْ أَبَى فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ ، وَلْيُسْقَ مِنْ غَدْرِهِ ; فَإِنَّ اللَّهَ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا ، اُن دونوں حضرات نے آپ سے رہائش اختیار کرنے کے بارے میں مشورہ لیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی طرف اشارہ کیا ، ان دونوں نے پھر آپ سے اس بارے میں دریافت کیا : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی طرف اشارہ کیا ، ان دونوں نے پھر آپ سے دریافت کیا : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی طرف اشارہ کیا اور ارشاد فرمایا : ” تم دونوں پر شام جانا لازم ہے ، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے شہروں میں سے منتخب شدہ ہے ، وہ اپنی مخلوق میں سے بہترین لوگوں کو وہاں سکونت عطا کرے گا ، جو شخص یہ نہیں مانتا تو اُسے یمن چلے جانا چاہیے ، اور وہاں کے کنووں سے سیرابی حاصل کرنی چاہیے ، اللہ تعالیٰ نے شام اور اہل شام کے بارے میں مجھے ضمانت دی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ایسی اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جو سب ضعیف ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایسی اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جو سب ضعیف ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ - وَاسْمُهُ ذَرْعٌ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَكُونُ جُنُودٌ أَرْبَعَةٌ ، فَعَلَيْكَ بِالشَّامِ ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَذَكَرَهُ فِي الذَّالِ الْمُعْجَمَةِ ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي صُحْبَتِهِ . قُلْتُ : وَفِي إِسْنَادِهِ جَمَاعَةٌ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ، جن کا نام سیدنا ذرع رضی اللہ عنہ ہے وہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چار لشکر ہوں گے ، تو تم پر شام میں رہنا لازم ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شام اور اہل شام کے بارے میں مجھے ضمانت دی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے ان صحابی کا نام ” ذال “ سے شروع ہونے والے ناموں میں ذکر کیا ہے ، ان کے صحابی ہونے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے ان صحابی کا نام ” ذال “ سے شروع ہونے والے ناموں میں ذکر کیا ہے ، ان کے صحابی ہونے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَفْوَةُ اللَّهِ مِنْ أَرْضِهِ الشَّامُ ، وَفِيهَا صَفْوَتُهُ مِنْ خَلْقِهِ وَعِبَادِهِ ، وَلَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْكُمْ مِنْ أُمَّتِي ثُلَّةٌ لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ ، وَلَا عَذَابَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحِمْصِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی زمین میں اللہ تعالیٰ کا منتخب شدہ حصہ شام ہے ، اور اس جگہ میں وہ اپنی مخلوق اور اپنے بندوں میں سے ، منتخب لوگوں کو رکھے گا ، اور تم میں سے ، میری امت میں سے ایک ایسا گروہ ضرور جنت میں داخل ہو گا ، جن سے نہ حساب لیا جائے گا اور نہ انہیں عذاب ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ حمصی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ حمصی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الشَّامُ صَفْوَةُ اللَّهِ مِنْ بِلَادِهِ ، إِلَيْهَا يَجْتَبِي صَفْوَتَهُ مِنْ عِبَادِهِ ، فَمَنْ خَرَجَ مِنَ الشَّامِ إِلَى غَيْرِهِ فَبِسَخْطَهِ ، وَمَنْ دَخَلَهَا مِنْ غَيْرِهَا فَبِرَحْمَةٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شام اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے شہروں میں منتخب شدہ ہے اور وہ اپنے بندوں میں سے منتخب لوگوں کو اس کی طرف بھیجے گا ، جو شخص شام کو چھوڑ کر کسی اور علاقے کی طرف جائے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ سے ایسا کرے گا ، اور جو شخص دوسرے علاقے کو چھوڑ کر شام چلا جائے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے ایسا کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تُجَنِّدُونَ أَجْنَادًا " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خِرْ لِي ؟ فَقَالَ : " عَلَيْكَ بِالشَّامِ ; فَإِنَّهَا صَفْوَةُ اللَّهِ مِنْ بِلَادِهِ ، فِيهَا خِيرَتُهُ مِنْ عِبَادِهِ ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ ذَلِكَ فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ ، وَلْيُسْقَ بِغَدْرِهِ ; فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَمَنْ رَغِبَ عَنْ ذَلِكَ فَلْيَلْحَقْ بِنَجْدِهِ " . وَفِي إِسْنَادَيْهِمَا مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ مختلف لشکروں میں تقسیم ہو جاؤ گے ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے تجویز کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پر شام جانا لازم ہے ، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے شہروں میں سے ، اللہ تعالیٰ کا منتخب شدہ ہے ، اور اس میں اللہ تعالیٰ اپنے بہتر بندوں کو رکھے گا ، جو شخص اس سے منہ موڑتا ہے اُسے یمن چلے جانا چاہیے اور وہاں کے کنووں سے سیرابی حاصل کرنی چاہیے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شام اور اہل شام کے بارے میں ضمانت دی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ” اوسط “ میں نقل کی ہے اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جو شخص اُس سے منہ موڑتا ہے وہ اپنے نجد چلا جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ ان دونوں کی اسناد میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” اوسط “ میں نقل کی ہے اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جو شخص اُس سے منہ موڑتا ہے وہ اپنے نجد چلا جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ ان دونوں کی اسناد میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ - صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَهْلُ الشَّامِ سَوْطُ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ ، يَنْتَقِمُ بِهِمْ مِمَّنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ، وَحَرَامٌ عَلَى مُنَافِقِيهِمْ أَنْ يَظْهَرُوا عَلَى مُؤْمِنِيهِمْ ، وَلَا يَمُوتُوا إِلَّا هَمًّا وَغَمًّا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ مَوْقُوفًا عَلَى خُرَيْمٍ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اہل شام زمین میں اللہ کی لاٹھی ہیں ، ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس سے چاہے گا انتقام لے گا اور اہل شام کے منافقین پر یہ بات حرام ہے کہ وہ وہاں کے مومنین پر غالب آ جائیں ، اور وہ ( یعنی منافقین ) صرف پریشانی اور غم کے عالم میں ہی مریں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد نے اسے سیدنا خریم رضی اللہ عنہ پر ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، ان دونوں روایات کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد نے اسے سیدنا خریم رضی اللہ عنہ پر ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، ان دونوں روایات کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُفَيْلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عُقْرُ دَارِ الْإِسْلَامِ بِالشَّامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن نفیل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسلامی سلطنت کی بنیاد شام میں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ عِنْدُهُ : " طُوبَى لِلشَّامِ " . قُلْنَا : مَا لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنَّ الرَّحْمَنَ لَبَاسِطٌ رَحْمَتَهُ عَلَيْهِ " . ¤ قُلْتُ لَهُ ، عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ : " إِنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَنِ لَبَاسِطَةٌ أَجْنِحَتِهَا عَلَى الشَّامِ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہم اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : شام کے لیے مبارکباد ہے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کس حوالے سے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رحمن نے اپنی رحمت اُس پر پھیلائی ہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے ان صحابی کے حوالے سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” رحمان کے فرشتوں نے اپنے پر ، شام پر پھیلائے ہوئے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے ان صحابی کے حوالے سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” رحمان کے فرشتوں نے اپنے پر ، شام پر پھیلائے ہوئے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - اسْتَقْبَلَ بِي الشَّامَ ، وَوَلَّى ظَهْرِي الْيَمَنَ ، وَقَالَ لِي : يَا مُحَمَّدُ ، قَدْ جَعَلْتُ مَا تُجَاهَكَ غَنِيمَةً وَرِزْقًا ، وَمَا خَلَفَ ظَهْرِكَ مَدَدًا ، وَلَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ الشِّرْكُ ، حَتَّى تَسِيرَ الْمَرْأَتَانِ لَا يَخْشَيَانِ جَوَرًا " . ثُمَّ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا تَذْهَبُ الْأَيَّامُ وَاللَّيَالِي حَتَّى يَبْلُغَ هَذَا الدِّينُ مَبْلَغَ هَذَا النَّجْمِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئٍ الْمُتَأَخِّرُ إِلَى زَمَنِ أَبِي حَاتِمٍ ، وَهُوَ مُتَّهَمٌ بِالْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے میرا رخ شام کی طرف رکھا ہے اور میری پشت کی طرف یمن کو رکھا اور اس نے مجھ سے فرمایا : اے محمد ! میں نے تمہارے سامنے کی طرف غنیمت اور رزق رکھا ہے اور تمہاری پشت کی طرف مدد رکھی ہے ، اسلام مسلسل بڑھتا جائے گا اور شرک کم ہوتا جائے گا ، یہاں تک کہ دو عورتیں چلتی ہوئی جائیں گی اور انہیں کسی ظلم کا خوف نہیں ہو گا ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، رات اور دن کا سلسلہ اُس وقت تک ختم نہیں ہو گا ، جب تک یہ دین وہاں تک نہیں پہنچ جائے گا جہاں یہ ستارہ پہنچتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ہانی ہے جو ابوحاتم کے زمانے کا ہے اور اس پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ہانی ہے جو ابوحاتم کے زمانے کا ہے اور اس پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " دَخَلَ إِبْلِيسُ الْعِرَاقَ فَقَضَى فِيهِ حَاجَتَهُ ، ثُمَّ دَخَلَ الشَّامَ فَطَرَدُوهُ ، ثُمَّ دَخَلَ مِصْرَ فَبَاضَ فِيهَا وَفَرَّخَ ، وَبَسَطَ عَبْقَرَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَقَالَ فِيهِ : " فَطَرَدُوهُ حَتَّى بَلَغَ بَيسَانَ " . مِنْ رِوَايَةِ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ابلیس ، عراق میں داخل ہوا ، وہاں اس نے اپنی حاجت پوری کی ، پھر وہ شام میں داخل ہوا تو ان لوگوں نے اسے نکال دیا ، پھر وہ مصر میں داخل ہوا ، وہاں اُس نے انڈے دیے اور بچے دیے اور اپنی نسل کو پھیلایا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے وہاں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” تو انہوں نے اسے نکال دیا یہاں تک کہ وہ ” بیسان “ پہنچ گیا ۔ “
یہ روایت یعقوب بن عبداللہ بن عتبہ بن اخنس نے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے حالانکہ انہوں نے اُن سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے وہاں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” تو انہوں نے اسے نکال دیا یہاں تک کہ وہ ” بیسان “ پہنچ گیا ۔ “
یہ روایت یعقوب بن عبداللہ بن عتبہ بن اخنس نے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے حالانکہ انہوں نے اُن سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضِرَارِ بْنِ عَمْرٍو الْأَسَدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَسَّمَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْخَيْرَ فَجَعَلَهُ عَشَرَةَ أَعْشَارٍ ، فَجَعَلَ تِسْعَةَ أَعْشَارٍ بِالشَّامِ ، وَبَقِيَّتُهُ فِي سَائِرِ الْأَرْضِ . وَقَسَّمَ الشَّرَّ عَشَرَةَ أَعْشَارٍ ، فَجَعَلَ جُزْءًا مِنْهُ بِالشَّامِ ، وَبَقِيَّتُهُ فِي سَائِرِ الْأَرْضِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ ضِرَارٍ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ضرار اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے بھلائی کو تقسیم کیا ، اس نے اُس ( بھلائی ) کے دس حصے بنائے ، تو دس میں سے نو حصے شام میں رکھ دیے ، اور باقی کا ایک حصہ پوری زمین میں رکھا ، اللہ تعالیٰ نے برائی کو دس حصوں میں تقسیم کیا تو اس ( برائی ) کا ایک حصہ شام میں رکھا اور باقی کے تمام حصے پوری روئے زمین میں رکھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور عبداللہ بن ضرار نامی راوی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور عبداللہ بن ضرار نامی راوی ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَهْلُ الشَّامِ وَأَزْوَاجُهُمْ وَذَرَارِيُّهِمْ وَعَبِيدُهُمْ وَإِمَاؤُهُمْ إِلَى مُنْتَهَى الْجَزِيرَةِ مُرَابِطُونَ ، فَمَنْ نَزَلَ مَدِينَةً مِنَ الشَّامِ ، فَهُوَ فِي رِبَاطٍ ، أَوْ ثَغْرٍ مِنَ الثُّغُورِ ، فَهُوَ مُجَاهِدٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَلَمْ يُسَمِّهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل شام ، ان کی بیویاں ، ان کے بال بچے ، ان کے غلام ، ان کی کنیزیں ، جزیرہ کی آخری حد تک پہریداری کرنے والے شمار ہوں گے ، جو شخص شام کے کسی شہر میں ٹھہرے گا وہ پہریداری کرنے والا ہو گا ، اور جو وہاں کی کسی پہاڑ کی دراڑ میں ٹھہرے گا ، وہ مجاہد ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ارطاۃ بن منذر کی ایک فرد کے حوالے سے ، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، انہوں نے اس شخص کا نام بیان نہیں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ارطاۃ بن منذر کی ایک فرد کے حوالے سے ، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، انہوں نے اس شخص کا نام بیان نہیں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى أَبْوَابِ دِمَشْقَ وَمَا حَوْلَهُ ، وَعَلَى أَبْوَابِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَمَا حَوْلَهُ ، لَا يَضُرُّهُمْ خِذْلَانُ مَنْ خَذَلَهُمْ ، ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری امت کا ایک گروہ ” دمشق “ کے دروازوں کے پاس اور اس کے اردگرد ، اور بیت المقدس کے دروازوں کے پاس اور اس کے اردگرد مسلسل جنگ کرتا رہے گا ، جو شخص انہیں رسوا کرنے کی کوشش کرے گا ، اس کی کوشش اُنہیں ( یعنی مسلمانوں کو ) کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی ، اور وہ لوگ قیامت قائم ہونے ایک مسلسل حق پر گامزن رہیں گے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَخْرُجُ نَارٌ مِنْ بَحْرِ حَضْرَمَوْتَ - أَوْ مِنْ حَضْرَمَوْتَ - تَسُوقُ النَّاسَ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” حضرموت کے سمندر سے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) حضرموت سے ایک آگ نکلے گی ، جو لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پر شام میں رہنا لازم ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔