کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: شام کے شہروں کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16664
وَعَنْ حَمْرَةَ بْنِ عَبْدِ كَلَالٍ قَالَ : سَارَ عُمَرُ إِلَى الشَّامِ بَعْدَ مَسِيرِهِ الْأَوَّلِ كَانَ إِلَيْهَا ، حَتَّى إِذَا شَارَفَهَا بَلَغَهُ وَمَنْ مَعَهُ : أَنَّ الطَّاعُونَ فَاشٍ فِيهَا ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ : ارْجِعْ ، وَلَا تَقْتَحِمْ عَلَيْهِ ، فَلَوْ نَزَلْتَهَا وَهُوَ بِهَا لَمْ نَرَ لَكَ الشُّخُوصَ عَنْهَا ، فَانْصَرَفَ رَاجِعًا إِلَى الْمَدِينَةِ ; فَعَرَّسَ مِنْ لَيْلَتِهِ تِلْكَ ، وَأَنَا أَقْرَبُ الْقَوْمِ مِنْهُ ، فَلَمَّا انْبَعَثَ انْبَعَثَ مَعَهُ فِي أَثَرِهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : رَدُّونِي عَنِ الشَّامِ بَعْدَ أَنْ شَارَفْتُ عَلَيْهِ ; لِأَنَّ الطَّاعُونَ فِيهِ ، أَلَا وَمَا مُنْصَرَفِي عَنْهُ بِمُؤَخِّرٍ فِي أَجَلِي ، وَمَا كَانَ قَدُومِيهِ بِمُعَجِّلِي عَنْ أَجَلِي ، أَلَا وَلَوْ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَفَرَغْتُ مِنْ حَاجَاتٍ لَا بُدَّ لِي عَنْهَا ، لَقَدْ سِرْتُ حَتَّى أَنْزِلَ الشَّامَ ، ثُمَّ أَدْخُلَ حِمْصَ ; لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ مِنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ ، وَلَا عَذَابَ عَلَيْهِمْ ، مَبْعَثُهُمْ فِيمَا بَيْنَ الزَّيْتُونِ ، وَحَائِطُهَا فِي الْبَرْثِ الْأَحْمَرِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
حمرہ بن عبدکلال بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شام کی طرف ، اپنے پہلے سفر کے موقع پر ، شام جانے کے لیے روانہ ہوئے ، جب وہ شام کے قریب پہنچے تو انہیں اور ان کے ساتھیوں کو یہ اطلاع ملی کہ شام میں طاعون پھیل چکا ہے ، ان کے ساتھیوں نے ان سے کہا: آپ واپس چلیں اور شام میں داخل نہ ہوں ، اگر آپ شام گئے اور وہاں طاعون ہوا ، تو پھر ہم نہیں سمجھتے کہ آپ وہاں سے واپس آ پائیں گے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کی طرف واپس مڑ گئے ، اس رات انہوں نے رات کے آخری حصہ میں پڑاؤ کیا ، میں اس وقت ان کے سب سے زیادہ قریب تھا ، جب وہ اُٹھے تو میں بھی ان کے پیچھے اُٹھا ، میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا : کہ جب میں شام کے قریب پہنچ چکا تھا تو ان لوگوں نے مجھے وہاں سے واپس کروا دیا ، کیونکہ وہاں طاعون موجود ہے ، خبردار ! وہاں سے میرا واپس لوٹ جانا ، میری موت کے وقت میں تاخیر نہیں کرے گا ، اور نہ ہی میرا وہاں چلے جانا ، موت کے مخصوص وقت کو جلدی کر دے تا ، خبردار ! میں مدینہ منورہ واپس جانے کے بعد ، ضروری کاموں سے فارغ ہونے کے بعد پھر سفر کروں گا ، اور شام جا کے ٹھہروں گا ، اور پھر میں ” حمص “ میں داخل ہوؤں گا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) وہاں سے ستر ہزار ایسے افراد کو اُٹھائے گا ، جن سے نہ حساب لیا جائے گا اور نہ انہیں کوئی عذاب ہو گا ، وہ لوگ وہاں کی نرم مٹی میں موجود زیتون ( کے درختوں ) اور اس کی دیواروں کے درمیان سے اُٹھائے جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16664
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (120)»
حدیث نمبر: 16665
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَسْقَلَانُ أَحَدُ الْعَرُوسَيْنِ ، يُبْعَثُ مِنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ ، وَيُبْعَثُ مِنْهَا خَمْسُونَ أَلْفًا شُهَدَاءَ وُفُودًا إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَبِهَا صُفُوفُ الشُّهَدَاءِ ، رُءُوسُهُمْ مُقَطَّعَةٌ فِي أَيْدِيهِمْ ، تَثُجُّ أَوْدَاجُهُمْ دَمًا ، يَقُولُونَ : رَبَّنَا آتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ إِنَّكَ لَا تُخَلِفُ الْمِيعَادِ ، فَيَقُولُ : صَدَقَ عِبَادِي ، اغْسِلُوهُمْ بِنَهْرِ الْبَيْضَةِ ، فَيَخْرُجُونَ مِنْهُ نَقَاءً بِيضًا ، فَيَسْرَحُونَ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءُوا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو عِقَالٍ : هِلَالُ بْنُ زَيْدِ بْنِ يَسَارٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . وَفِي إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عسقلان ، دو دلہنوں میں سے ایک ہے ، وہاں سے قیامت کے دن ستر ہزار ایسے لوگوں کو اٹھایا جائے گا ، جن سے حساب نہیں لیا جائے گا ، اور وہاں سے 50 ہزار شہداء کو اٹھایا جائے گا ، جو وفد کی شکل میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جائیں گے ، اور ان شہداء کی صفیں ہوں گی جن کے سر کٹے ہوئے ہوں گے اور ان کے ہاتھوں میں موجود ہوں گے ، اُن کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا اور وہ یہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! تو ہمیں وہ چیز عطا کر دے جس کا تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا ، بے شک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے ۔ تو پروردگار یہ فرمائے گا : میرے بندوں نے سچ کہا: ہے ، انہیں ” نہر بیضہ “ میں غسل دو ! وہ لوگ جب اُس سے نکلیں گے ، تو صاف ستھرے چمکدار ہوں گے اور پھر وہ جنت میں جہاں چاہیں گے وہاں ٹھہر جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعقال ہلال بن زید بن یسار ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ اسماعیل بن عیاش نامی راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16665
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (225/3)»
حدیث نمبر: 16666
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَذْكُرُ أَهْلَ مَقْبَرَةٍ يَوْمًا ، قَالَ : فَصَلَّى عَلَيْهَا ، فَأَكْثَرَ الصَّلَاةَ عَلَيْهَا ، قَالَ : فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهَا ، فَقَالَ : " أَهْلُ مَقْبَرَةِ شُهَدَاءِ عَسْقَلَانَ يُزَفُّونَ إِلَى الْجَنَّةِ ، كَمَا تُزَفُّ الْعَرُوسُ إِلَى زَوْجِهَا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” اہل مقبرہ “ کا ذکر کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لیے دعائے رحمت کی اور ان کے لیے بکثرت دعائے رحمت کی ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل مقبرہ ، عسقلان کے شہداء ہیں ، قیامت کے دن انہیں یوں اہتمام کے ساتھ جنت کی طرف لے جایا جائے گا ، جس طرح دلہن کو اس کے شوہر کی طرف لے جایا جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشیر بن میمون ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16666
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (175)»
حدیث نمبر: 16667
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِهِ إِذْ قَالَ : " صَلَّى اللَّهُ عَلَى تِلْكَ الْمَقْبَرَةِ " ثَلَاثًا ، قَالَ : فَلَمْ نَدْرِ أَيَّ مَقْبَرَةٍ ، وَلَمْ يُسَمِّ لَهُمْ شَيْئًا . ¤ قَالَ : فَدَخَلَ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَعْضِ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ عَطَّافٌ : فَحُدِّثْتُ أَنَّهَا عَائِشَةُ - فَقَالَ لَهَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ أَهْلَ مَقْبَرَةٍ فَصَلَّى عَلَيْهِمْ ، وَلَمْ يُخْبِرْنَا أَيَّ مَقْبَرَةٍ هِيَ ؟ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْهَا فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا فَقَالَ لَهَا : " أَهْلُ مَقْبَرَةٍ بِعَسْقَلَانَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَلَفْظُهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَغْفَرَ وَصَلَّى عَلَى أَهْلِ مَقْبَرَةٍ بِعَسْقَلَانَ . وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بُحَيْنَةَ ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُحَيْنَةَ ، وَكِلَاهُمَا لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ يَسِيرٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے ، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اُن مقبرہ والوں پر رحمت نازل کرے ، یہ کلمات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائے ، راوی کہتے ہیں : ہمیں اندازہ نہیں ہو پایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سے قبرستان کو مراد لیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے حوالے سے کوئی نام ذکر نہیں کیا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، عطاف نامی راوی کہتے ہیں : مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ وہ زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تھیں ، اُن صحابی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی قبرستان والوں کا ذکر کر کے اُن کے لیے دعائے رحمت کی ہے ، لیکن ہمیں یہ نہیں بتایا کہ وہ کون سا قبرستان ہے ؟ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اُس قبرستان کے بارے میں دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عسقلان کے قبرستان کے لوگوں ( یعنی وہاں کے بارے میں ، میں نے وہ دعا کی تھی ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عسقلان کے قبرستان والوں کے لئے دعائے مغفرت کی اور اُن کے لیے دعائے رحمت کی ۔ “ امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی علی بن عبداللہ بن مالک بن بحینہ ہے اور امام بزار کی سند میں راوی کا نام مالک بن عبداللہ بن بحینہ ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ اس کے بعض راویوں کے بارے میں معمولی سا اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16667
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2853) اخرجه ابو يعلى فى المسند (913)»
حدیث نمبر: 16668
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُرِيدَ الْغَزْوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ : " عَلَيْكَ بِالشَّامِ ; فَإِنَّ اللَّهَ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ ، وَالْزَمْ فِي الشَّامِ عَسْقَلَانَ ; فَإِنَّهَا إِذَا دَارَتِ الرَّحَا فِي أُمَّتِي كَانَ أَهْلُهَا فِي خَيْرٍ وَعَافِيَةٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَقَالَ : " إِذَا دَارَتْ رَحَا أُمَّتِي كَانَ أَهْلُهَا فِي رَخَاءٍ وَعَافِيَةٍ " . وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَدَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لینا چاہتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم پر شام جانا لازم ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شام اور اہل شام کے بارے میں مجھے ضمانت دی ہے ، اور تم شام میں ” عسقلان “ میں رہنا ، کیونکہ جب میری امت میں ( فتنوں کی ) چکی گھومے گی ، تو وہاں کے رہنے والے لوگ خیر اور عافیت میں ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جب میری امت کی چکی گھومے گی تو وہاں کے رہنے والے لوگ خوشحالی اور عافیت میں ہوں گے ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی یحیی بن سلیمان مدنی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16668
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (251/18)»
حدیث نمبر: 16669
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرُوا الشَّامَ وَمَنْ فِيهَا مِنَ الرُّومِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّكُمْ سَتَغْلِبُونَ عَلَى الشَّامِ ، وَتُصِيبُونَ عَلَى بَحْرِهَا حِصْنًا يُقَالُ لَهُ : أَنَفَةٌ ، يُبْعَثُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُونَ أَلْفَ شَهِيدٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، لوگوں نے شام کا اور وہاں موجود رومیوں کا ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب تم لوگ شام پر غالب آ جاؤ گے اور تم وہاں کے سمندر میں موجود ایک قلعے میں پہنچو گے ، جس کا نام ” انفۃ “ ہو گا قیامت کے دن ، وہاں سے بارہ ہزار شہیدوں کو اُٹھایا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16669
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7797)»
حدیث نمبر: 16670
وَعَنْ شُرَحْبِيلَ الْجُعْفِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ تَعَذَّرَتْ عَلَيْهِ الصَّنْعَةُ فَعَلَيْهِ بِعُمَانَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شرحبیل جعفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو رہا ہو ، اسے عمان چلے جانا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16670
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7214)»