مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الشَّامِ . باب: شام کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّكُمْ سَتُجَنَّدُونَ أَجْنَادًا : جُنْدٌ بِالشَّامِ ، وَمِصْرَ ، وَالْعِرَاقِ ، وَالْيَمَنِ " . قَالُوا : فَخِرْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ " . قَالُوا : إِنَّا أَصْحَابُ مَاشِيَةٍ ، وَلَا نُطِيقُ الشَّامَ ، قَالَ : " فَمَنْ لَمْ يُطِقِ الشَّامَ فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ ; فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَقَالَ : " فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ ، وَلْيُسْقَ مِنْ غَدْرِهِ " . وَفِيهِمَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُقْبَةَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَفِيهِ خِلَافٌ لَا يَضُرُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب تم لوگ مختلف لشکر پاؤ گے ، شام میں ، مصر میں ، عراق میں ، یمن میں ، ایک ایک لشکر ہوں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لئے کوئی اختیار کر دیں ( یعنی تجویز کر دیں ) ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگوں پر شام میں رہنا لازم ہے ۔ “
لوگوں نے عرض کی : ہم مال مویشی والے لوگ ہیں ، ہم شام میں رہنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص شام میں رہنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اسے یمن چلے جانا چاہیے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شام کے بارے میں ضمانت دی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اسے یمن چلے جانا چاہیے اور وہاں کے کنووں سے سیرابی حاصل کرنی چاہیے ۔ “
ان دونوں روایات میں ایک راوی سلیمان بن عتبہ ہے جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔