مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الشَّامِ . باب: شام کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " دَخَلَ إِبْلِيسُ الْعِرَاقَ فَقَضَى فِيهِ حَاجَتَهُ ، ثُمَّ دَخَلَ الشَّامَ فَطَرَدُوهُ ، ثُمَّ دَخَلَ مِصْرَ فَبَاضَ فِيهَا وَفَرَّخَ ، وَبَسَطَ عَبْقَرَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَقَالَ فِيهِ : " فَطَرَدُوهُ حَتَّى بَلَغَ بَيسَانَ " . مِنْ رِوَايَةِ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ابلیس ، عراق میں داخل ہوا ، وہاں اس نے اپنی حاجت پوری کی ، پھر وہ شام میں داخل ہوا تو ان لوگوں نے اسے نکال دیا ، پھر وہ مصر میں داخل ہوا ، وہاں اُس نے انڈے دیے اور بچے دیے اور اپنی نسل کو پھیلایا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے وہاں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” تو انہوں نے اسے نکال دیا یہاں تک کہ وہ ” بیسان “ پہنچ گیا ۔ “
یہ روایت یعقوب بن عبداللہ بن عتبہ بن اخنس نے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے حالانکہ انہوں نے اُن سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔