کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اہل یمن اور اہل شام کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16636
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَظَرَ قِبَلَ الْعِرَاقِ ، وَالشَّامِ وَالْيَمَنِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ عَلَى طَاعَتِكَ ، وَحُطَّ مَنْ وَرَاءَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ بَحْرِ بْنِ بَرِّيٍّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عراق ، شام اور یمن کی طرف دیکھا اور پھر یہ فرمایا : ” اے اللہ ! اُن کے دلوں کو اپنی فرمانبرداری کی طرف لے آ ! اور جو ان کے پیچھے ہیں انہیں گھیر لے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف علی بن بحرین بری کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16636
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (273) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4791)»
حدیث نمبر: 16637
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا ، وَفِي يَمَنِنَا " . فَقَالَ رَجُلٌ : وَفِي شَرْقِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَفِي يَمَنِنَا " . فَقَالَ رَجُلٌ : وَفِي مَشْرِقِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَفِي يَمَنِنَا ، إِنَّ مِنْ هُنَالِكَ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ، وَبِهِ تِسْعَةُ أَعْشَارِ الشَّرِّ ، وَبِهِ الدَّاءُ الْعُضَالُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ وَلَفْظُهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَيَمَنِنَا " . - مَرَّتَيْنِ - فَقَالَ رَجُلٌ : وَفِي مَشْرِقِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مِنْ هُنَالِكَ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ، وَبِهِ تِسْعَةُ أَعْشَارِ الْشَّرِّ " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ خِلَافٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اے اللہ ! تو ہمارے شام اور ہمارے یمن میں ، ہمارے لئے برکت ڈال دے ۔ “ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے مشرقی علاقے کے لئے بھی ( یعنی دعا کیجئے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! ہمارے شام اور ہمارے یمن میں ، ہمارے لئے برکت ڈال دے ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے مشرق ( یعنی اس کے لئے بھی دعا کیجئے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! ہمارے شام اور ہمارے یمن میں برکت ڈال دے ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے مخاطب ہو کر یہ ارشاد فرمایا : ) ” وہاں ( یعنی مشرق کی سمت میں ) سے شیطان کا سینگ طلوع ہو گا اور وہاں کفر کے دس میں سے نو حصے ہیں اور وہاں پیچیدہ بیماری ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، روایت کے الفاظ ان کی نقل کردہ ہیں ، اسے امام أحمد نے بھی نقل کیا ہے ، اور ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ ارشاد فرمایا : اے اللہ ! تو ہمارے لئے ہمارے شام اور ہمارے یمن میں برکت ڈال دے ، ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے مشرق کے لیے بھی ( یعنی دعا کیجئے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہو گا ، اور وہاں شر کے دس میں سے نو حصے ہیں ۔ “
امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن عطاء کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16637
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1910)»