حدیث نمبر: 16648
وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ : عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَامَ يَوْمًا فِي النَّاسِ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، تُوشِكُونَ أَنْ تَكُونُوا أَجْنَادًا مُجَنَّدَةً ، جُنْدٌ بِالشَّامِ ، وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ ، وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ " . فَقَالَ ابْنُ حَوَالَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ الزَّمَانُ فَاخْتَرْ لِي ، قَالَ : " إِنِّي أَخْتَارُ لَكَ الشَّامَ ; فَإِنَّهُ خِيرَةُ الْمُسْلِمِينَ ، وَصَفْوَةُ اللَّهِ مِنْ بِلَادِهِ ، يَجْتَبِي إِلَيْهَا صَفْوَتِهِ مِنْ خَلْقِهِ ، فَمَنْ أَبَى فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ ، وَلْيُسْقَ مِنْ غَدْرِهِ ; فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک دن آپ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے لوگو ! عنقریب ایسا وقت آئے گا جب تم مختلف لشکروں میں تقسیم ہو جاؤ گے ، ایک لشکر شام میں ہو گا ، ایک لشکر عراق میں ہو گا ، ایک لشکر یمن میں ہو گا ، تو سیدنا ابن حوالہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں وہ زمانہ پاؤں ، تو آپ میرے لئے ( ان میں سے کسی ایک کو ) اختیار کر دیں ( یعنی تجویز کر دیں ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہارے لئے شام کو اختیار کرتا ہوں کیونکہ وہ بہترین مسلمانوں کا علاقہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے شہروں میں ، اللہ تعالیٰ کا منتخب کردہ ہے ، اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے برگزیدہ بندوں کو اس کی طرف بھیجے گا ، جو شخص نہیں مانتا اسے یمن چلے جانا چاہیے اور وہاں کے کنووں سے سیرابی حاصل کرنی چاہیے ، بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے شام اور اہل شام کے بارے میں ضمانت دی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16648
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح