مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الشَّامِ . باب: شام کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسَرِيَ بِي عَمُودًا أَبْيَضَ كَأَنَّهُ لُؤْلُؤَةٌ تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ ، قَلْتُ : مَا تَحْمِلُونَ ؟ فَقَالُوا : عَمُودُ الْكِتَابِ ، أُمِرْنَا أَنْ نَضَعَهُ بِالشَّامِ ، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، ثُمَّ رَأَيْتُ عَمُودَ الْكِتَابِ اخْتُلِسَ مِنْ تَحْتِ وِسَادَتِي فَظَنَنْتُ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - تَخَلَّى مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ ، فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِي ، فَإِذَا هُوَ نُورٌ سَاطِعٌ بَيْنَ يَدَيَّ حَتَّى وُضِعَ بِالشَّامِ " . فَقَالَ ابْنُ حَوَالَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خِرْ لِي ؟ قَالَ : " عَلَيْكَ بِالشَّامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس رات مجھے معراج کروائی گئی ، میں نے ایک سفید ستون دیکھا جو جھلملاتا ہوا موتی تھا ، اسے فرشتوں نے اٹھایا ہوا تھا ، میں نے دریافت کیا : تم نے کیا اُٹھایا ہوا ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ کتاب کا ستون ہے ، ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم اسے شام میں نصب کریں ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : ” ایک مرتبہ میں سو رہا تھا ، میں نے کتاب کے ستون کو دیکھا کہ اُسے میرے تکیے کے نیچے سے نکال لیا گیا ، میں نے یہ گمان کیا کہ شاید اس کو اہل زمین سے الگ کر دیا جائے گا ، میں نے اس کے پیچھے نگاہ رکھی ، تو وہ میرے سامنے ایک چمکتے ہوئے نور کی مانند تھا ، یہاں تک کہ اس کو شام میں رکھ دیا گیا ۔ “ سیدنا ابن حوالہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے ( کوئی شہر یا علاقہ ) تجویز کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم پر شام میں رہنا لازم ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف صالح بن رستم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔