حدیث نمبر: 16650
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ لِحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَهُمَا يَسْتَشِيرَانِهِ فِي الْمَنْزِلِ ، فَأَوْمَأَ إِلَى الشَّامِ . ثُمَّ سَأَلَاهُ فَأَوْمَأَ إِلَى الشَّامِ . ثُمَّ سَأَلَاهُ فَأَوْمَأَ إِلَى الشَّامِ قَالَ : " عَلَيْكُمَا بِالشَّامِ ; فَإِنَّهَا صَفْوَةُ بِلَادِ اللَّهِ ، يَسَكُنُهَا خِيرَتُهُ مِنْ خَلْقِهِ ، فَمَنْ أَبَى فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ ، وَلْيُسْقَ مِنْ غَدْرِهِ ; فَإِنَّ اللَّهَ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا ، اُن دونوں حضرات نے آپ سے رہائش اختیار کرنے کے بارے میں مشورہ لیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی طرف اشارہ کیا ، ان دونوں نے پھر آپ سے اس بارے میں دریافت کیا : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی طرف اشارہ کیا ، ان دونوں نے پھر آپ سے دریافت کیا : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی طرف اشارہ کیا اور ارشاد فرمایا : ” تم دونوں پر شام جانا لازم ہے ، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے شہروں میں سے منتخب شدہ ہے ، وہ اپنی مخلوق میں سے بہترین لوگوں کو وہاں سکونت عطا کرے گا ، جو شخص یہ نہیں مانتا تو اُسے یمن چلے جانا چاہیے ، اور وہاں کے کنووں سے سیرابی حاصل کرنی چاہیے ، اللہ تعالیٰ نے شام اور اہل شام کے بارے میں مجھے ضمانت دی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ایسی اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جو سب ضعیف ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16650
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (58/22)»