حدیث نمبر: 16649
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَجَنَّدَ النَّاسُ أَجْنَادًا ، جُنْدٌ بِالْيَمَنِ ، وَجُنْدٌ بِالشَّامِ ، وَجُنْدٌ بِالْمَشْرِقِ ، وَجُنْدٌ بِالْمَغْرِبِ " . فَقَالَ رَجُلٌ : مَرْحَبًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خِرْ لِي ، فَإِنِّي فَتًى شَابٌّ ، فَلَعَلِّي أُدْرِكُ ذَلِكَ ، فَأَيُّ ذَلِكَ تَأْمُرُنِي ؟ فَقَالَ : " عَلَيْكَ بِالشَّامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَفِيهِمَا الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ الطَّرِيقَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگ مختلف گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے ، ایک لشکر یمن میں ہو گا ، ایک لشکر شام میں ہو گا ، ایک لشکر مشرق میں ہو گا ، ایک لشکر مغرب میں ہو گا ، ایک صاحب نے عرض کی : آپ کو خوش آمدید ہے ، یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے اختیار کر لیں ( یعنی کوئی تجویز کر دیں ) کیونکہ میں ایک نوجوان شخص ہوں ، ہو سکتا ہے ، میں اس طرح کی صورتحال پا لوں ، تو آپ مجھے اس بارے میں کیا ہدایت کرتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پر شام جانا لازم ہے ۔ “ یہی روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں دو حوالوں سے نقل کی ہے ، ان دونوں میں ایک راوی مغیرہ بن زیاد ہے اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ، دونوں طریقوں میں سے ایک کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16649
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن