مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الشَّامِ . باب: شام کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ - صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَهْلُ الشَّامِ سَوْطُ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ ، يَنْتَقِمُ بِهِمْ مِمَّنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ، وَحَرَامٌ عَلَى مُنَافِقِيهِمْ أَنْ يَظْهَرُوا عَلَى مُؤْمِنِيهِمْ ، وَلَا يَمُوتُوا إِلَّا هَمًّا وَغَمًّا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ مَوْقُوفًا عَلَى خُرَيْمٍ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اہل شام زمین میں اللہ کی لاٹھی ہیں ، ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس سے چاہے گا انتقام لے گا اور اہل شام کے منافقین پر یہ بات حرام ہے کہ وہ وہاں کے مومنین پر غالب آ جائیں ، اور وہ ( یعنی منافقین ) صرف پریشانی اور غم کے عالم میں ہی مریں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد نے اسے سیدنا خریم رضی اللہ عنہ پر ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، ان دونوں روایات کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔