حدیث نمبر: 16647
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ الْأَزْدِيِّ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خِرْ لِي بَلَدًا أَكُونُ فِيهِ ، فَلَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَبْقَى لَمْ أَخْتَرْ عَنْ قُرْبِكَ شَيْئًا . فَقَالَ : " عَلَيْكَ بِالشَّامِ " . فَلَمَّا رَأَى كَرَاهِيَتِي لِلشَّامِ قَالَ : " أَتَدْرِي مَا يَقُولُ اللَّهُ فِي الشَّامِ ؟ إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : يَا شَامُ ، أَنْتِ صَفْوَتِي مِنْ بِلَادِي ، أُدْخِلُ فِيكِ خِيرَتِي مِنْ عِبَادِي . إِنَّ اللَّهَ قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ " . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن حوالہ ازدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لیے کوئی شہر اختیار کر دیں ( یعنی تجویز کر دیں ) جس میں ، میں رہوں ، اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ آپ باقی رہیں گے تو میں نے آپ کے قرب کو چھوڑ کر اور کوئی چیز اختیار نہیں کرنی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پر شام میں رہنا لازم ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ملاحظہ کی کہ میں شام کو ناپسند کرتا ہوں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم یہ بات جانتے ہو ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے شام کے بارے میں کیا فرمایا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : ” اے شام ! تم میرے شہروں میں میرے منتخب کردہ ہو اور میں تم میں اپنے بندوں میں سے بہترین لوگوں کو داخل کروں گا ، ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) اللہ تعالیٰ نے شام اور اہل شام کے بارے میں ، مجھے ضمانت دی ہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابوداؤد نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف صالح بن رستم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16647
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح