مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الشَّامِ . باب: شام کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تُجَنِّدُونَ أَجْنَادًا " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خِرْ لِي ؟ فَقَالَ : " عَلَيْكَ بِالشَّامِ ; فَإِنَّهَا صَفْوَةُ اللَّهِ مِنْ بِلَادِهِ ، فِيهَا خِيرَتُهُ مِنْ عِبَادِهِ ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ ذَلِكَ فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ ، وَلْيُسْقَ بِغَدْرِهِ ; فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَمَنْ رَغِبَ عَنْ ذَلِكَ فَلْيَلْحَقْ بِنَجْدِهِ " . وَفِي إِسْنَادَيْهِمَا مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ مختلف لشکروں میں تقسیم ہو جاؤ گے ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے تجویز کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پر شام جانا لازم ہے ، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے شہروں میں سے ، اللہ تعالیٰ کا منتخب شدہ ہے ، اور اس میں اللہ تعالیٰ اپنے بہتر بندوں کو رکھے گا ، جو شخص اس سے منہ موڑتا ہے اُسے یمن چلے جانا چاہیے اور وہاں کے کنووں سے سیرابی حاصل کرنی چاہیے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شام اور اہل شام کے بارے میں ضمانت دی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ” اوسط “ میں نقل کی ہے اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جو شخص اُس سے منہ موڑتا ہے وہ اپنے نجد چلا جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ ان دونوں کی اسناد میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔