حدیث نمبر: 16643
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رَأَيْتُ عَمُودَ الْكِتَابِ انْتُزِعَ مِنْ تَحْتِ وِسَادَتِي ، فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِي ، فَإِذَا هُوَ نُورٌ سَاطِعٌ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ قَدْ هَوِيَ بِهِ ، فَعُمِدَ بِهِ إِلَى الشَّامِ ، وَإِنِّي أَوَّلْتُ أَنَّ الْفِتَنَ إِذَا وَقَعَتْ إِنَّ الْإِيمَانَ بِالشَّامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں نے کتاب کے ستون کو دیکھا کہ اُسے میرے تکیے کے نیچے سے نکالا گیا ، میں نے اس کی طرف نگاہ رکھی ، تو وہ ایک چمکتا ہوا نور تھا ، یہاں تک کہ مجھے یہ گمان ہوا کہ شاید اُسے لے جایا جائے گا ، تو اسے شام کی طرف لے جایا گیا ، میں نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ جب فتنے واقع ہوں گے ، تو ایمان شام میں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16643
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7714)»