کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قسامہ کی اصل کا بیان، اور لوث (قتل کے ظاہری قرائن) کی موجودگی میں مدعی کی قسموں سے آغاز کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، حَدَّثَنِي أَبُو لَيْلَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ رِجَالٌ، مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ، وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ هُوَ وَرِجَالٌ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةَ، خَرَجَا خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمَا فَتَفَرَّقَا فِي حَوَائِجِهِمَا، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ، فَأَتَى يَهُودَ فَقَالَ: أَنْتُمْ وَاللهِ قَتَلْتُمُوهُ، فَقَالُوا: وَاللهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَأَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُمْ، فَأَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ، وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ أَخُو الْمَقْتُولِ، فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ يَتَكَلَّمُ، وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ: " كَبِّرْ كَبِّرْ" يُرِيدُ السِّنَّ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ، وَإِمَّا أَنْ يُؤْذَنُوا بِحَرْبٍ" فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ فَكَتَبُوا: إِنَّا وَاللهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ: " تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَتَحْلِفُ يَهُودُ؟ " قَالُوا: لَا، لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِمِائَةِ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ، فَقَالَ سَهْلٌ: لَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ ⦗٢٠٥⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَإِسْمَاعِيلَ، عَنْ مَالِكٍ، وَقَالَ فِي إِسْنَادِهِ كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ: إِنَّهُ أَخْبَرَهُ هُوَ وَرِجَالٌ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ ابْنُ وَهْبٍ وَمَعْنٌ وَغَيْرُهُمَا، عَنْ مَالِكٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ مَالِكٍ، وَقَالَ فِي إِسْنَادِهِ كَمَا قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما کسی تنگی کی وجہ سے خیبر کی طرف نکلے، کسی وجہ سے دونوں جدا جدا ہو گئے۔ محیصہ رضی اللہ عنہ آئے تو انہیں بتایا گیا کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو قتل کر کے کنویں یا چشمے میں پھینک دیا گیا ہے، تو وہ یہود کے پاس گئے اور کہا: ”تم نے اسے قتل کیا ہے، «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!““ تو انہوں نے کہا: ”«وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔“ تو وہ اپنی قوم کے پاس آئے اور انہیں سارا واقعہ سنایا، تو وہ، ان کے بڑے بھائی حویصہ اور مقتول کے بھائی عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہم نبی ﷺ کے پاس آئے، تو محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات کرنا چاہی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بڑا بات کرے۔“ تو حویصہ رضی اللہ عنہ نے بات کی۔ پھر محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یا تو وہ تمہارے ساتھی کی دیت دیں یا جنگ کے لیے تیار ہو جائیں۔“ آپ ﷺ نے اس بارے میں انہیں لکھا تو انہوں نے لکھ بھیجا کہ «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ ہم نے قتل نہیں کیا، تو آپ ﷺ نے ان تینوں کو فرمایا: ”کیا تم قسمیں اٹھاتے ہو اور اپنے ساتھی کے خون کے مستحق بنتے ہو؟“ کہنے لگے: ”نہیں۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر یہودی قسمیں اٹھائیں؟“ کہنے لگے: ”وہ مسلمان ہی نہیں ہیں۔“ تو آپ ﷺ نے ان کو اپنی طرف سے دیت ادا کی۔ سو اونٹنیاں ان کے گھر میں داخل ہوئیں۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک سرخ اونٹنی نے ان میں سے مجھے لات بھی ماری تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ، خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقَا لِحَاجَتِهِمَا، فَقُتِلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ، فَانْطَلَقَ هُوَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ أَخُو الْمَقْتُولِ وَحُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ قَتْلَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَهْلٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ قَاتِلِكُمْ أَوْ صَاحِبِكُمْ؟ " فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ لَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَحْضُرْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا؟ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ فَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلَهُ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ بَشِيرُ بْنُ يَسَارٍ: قَالَ سَهْلٌ: لَقَدْ رَكَضَتْنِي فَرِيضَةٌ مِنْ تِلْكَ الْفَرَائِضِ فِي مِرْبَدٍ لَنَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُثَنًّى، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود خیبر کی طرف نکلے اور اپنی ضرورتوں کے لیے جدا جدا ہو گئے تو عبداللہ بن سہل قتل کر دیے گئے۔ تو وہ (محیصہ)، مقتول کے بھائی عبدالرحمن اور حویصہ بن مسعود رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور آپ ﷺ سے عبداللہ بن سہل کے قتل کا ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم پچاس قسمیں اٹھاتے ہو اور اپنے قاتل یا اپنے ساتھی (کے خون) کے مستحق بنتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! نہ ہم نے دیکھا اور نہ ہم موجود تھے۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو یہودی پچاس قسمیں اٹھا کر تمہارے دعوے سے بری ہو جائیں؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم کافر قوم کی قسمیں کیسے قبول کریں؟“ پھر انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا کی۔ بشیر بن یسار کہتے ہیں کہ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: ان اونٹنیوں میں سے ایک اونٹنی نے ہمارے باڑے میں مجھے لات ماری تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ يَحْيَى: وَحَسِبْتُهُ قَالَ: وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّهُمَا قَالَا: خَرَجَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ حَتَّى إِذَا كَانَا بِخَيْبَرَ تَفَرَّقَا فِي بَعْضِ مَا هُنَالِكَ، ثُمَّ إِذَا مُحَيِّصَةُ يَجِدُ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ قَتِيلًا، فَدَفَنَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ وَحُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَتَكَلَّمَ قَبْلَ صَاحِبَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَبِّرْ " لِلْكُبْرِ فِي السِّنِّ، فَصَمَتَ وَتَكَلَّمَ صَاحِبَاهُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مَعَهُمَا، فَذَكَرُوا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَقْتَلَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَهْلٍ، فَقَالَ لَهُمْ: " أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا فَتَسْتَحِقُّونَ صَاحِبَكُمْ أَوْ قَاتِلَكُمْ؟ " قَالُوا: وَكَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ؟ قَالَ: " فَتُبَرِّئُكُمْ الْيَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا؟ " قَالُوا: وَكَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ كُفَّارٍ؟ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى عَقْلَهُ ⦗٢٠٦⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ اللَّيْثُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ اور (یحییٰ کے گمان کے مطابق) سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ دونوں کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود بن زید نکلے، جب وہ خیبر میں تھے تو وہاں کسی جگہ جدا جدا ہو گئے، پھر محیصہ نے عبداللہ بن سہل کو مقتول پایا تو انہیں دفن کر دیا، پھر وہ، حویصہ بن مسعود اور عبدالرحمن بن سہل رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور عبدالرحمن ان میں سب سے چھوٹے تھے۔ عبدالرحمن اپنے دونوں ساتھیوں سے پہلے بات کرنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”بڑے کو (بات کرنے دو)“ یعنی عمر میں بڑے کو۔ تو وہ خاموش ہو گئے اور ان کے دونوں ساتھیوں نے بات کی، پھر انہوں نے بھی ان کے ساتھ بات کی۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عبداللہ بن سہل کے قتل کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم پچاس قسمیں اٹھاتے ہو تاکہ اپنے ساتھی یا اپنے قاتل (کے خون) کے مستحق بن جاؤ؟“ انہوں نے کہا: ”ہم کیسے قسم اٹھائیں جبکہ ہم موجود نہیں تھے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو یہودی پچاس قسمیں اٹھا کر تمہارے دعوے سے بری ہو جائیں؟“ انہوں نے کہا: ”ہم کافروں کی قسمیں کیسے قبول کریں؟“ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ دیکھا تو اس کی دیت (خود) ادا کر دی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: انْطَلَقَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ إِلَى خَيْبَرَ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ، فَتَفَرَّقَا فِي حَوَائِجِهِمَا، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ يَتَشَحَّطُ فِي دَمِهِ قَتِيلًا، فَدَفَنَهُ، ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةُ وَحُوَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَبِّرِ الْكُبْرَ " وَهُوَ أَحْدَثُ الْقَوْمِ، فَسَكَتَ فَتَكَلَّمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَكُمْ أَوْ صَاحِبَكُمْ؟ " فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَرَ؟ قَالَ: " فَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ؟ " فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ نَأْخُذُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ، قَالَ: فَعَقَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ لَفْظُ حَدِيثِ مُسَدَّدٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ الْقَوَارِيرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید خیبر کی طرف گئے، اور ان دنوں وہاں صلح تھی، تو وہ اپنی ضرورتوں کے لیے جدا جدا ہو گئے۔ پھر محیصہ، عبداللہ بن سہل کے پاس پہنچے تو وہ قتل ہو کر اپنے خون میں لت پت تڑپ رہے تھے، تو انہوں نے انہیں دفن کر دیا، پھر مدینہ آئے تو عبدالرحمن بن سہل اور مسعود کے دونوں بیٹے محیصہ اور حویصہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے۔ عبدالرحمن بات کرنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”بڑے کو بڑائی دو“، کیونکہ وہ ان میں سب سے کم عمر تھے، تو وہ خاموش ہو گئے اور ان دونوں نے بات کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم پچاس قسمیں اٹھاتے ہو اور اپنے قاتل یا اپنے ساتھی (کے خون) کے مستحق بنتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم کیسے قسم اٹھائیں جبکہ نہ ہم موجود تھے اور نہ ہم نے دیکھا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو یہودی پچاس (قسموں) کے ذریعے تمہارے دعوے سے بری ہو جائیں؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم کافر قوم کی قسمیں کیسے لیں؟“ راوی کہتے ہیں: تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا کر دی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَعْنَى، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ مُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ، انْطَلَقَا قَبْلَ خَيْبَرَ فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ، فَقُتِلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ، فَاتَّهَمُوا الْيَهُودَ، فَجَاءَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَابْنَا عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي أَمْرِ أَخِيهِ وَهُوَ أَصْغَرُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكُبْرَ الْكُبْرَ " أَوْ قَالَ: " لِيَبْدَأِ الْأَكْبَرُ " فَتَكَلَّمَا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْكُمْ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ فَيُدْفَعُ بِرُمَّتِهِ؟ " قَالُوا: أَمْرٌ لَمْ نَشْهَدْهُ، كَيْفَ نَحْلِفُ؟ قَالَ: " فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ؟ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ قَوْمٌ كُفَّارٌ قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِهِ قَالَ سَهْلٌ: ⦗٢٠٧⦘ دَخَلْتُ مِرْبَدًا لَهُمْ يَوْمًا فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ مِنْ تِلْكَ الْإِبِلِ رَكْضَةً بِرِجْلِهَا هَذَا أَوْ نَحْوُهُ لَفْظُ حَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ اللهِ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَحِقُّوا صَاحِبَكُمْ، أَوْ قَالَ: قَتِيلَكُمْ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ قَالُوا: أَمْرٌ لَمْ نَشْهَدْهُ، قَالَ: فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ وَذَكَرَ الْبَاقِيَ بِمَعْنَاهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنِ الْقَوَارِيرِيِّ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ هَكَذَا رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ: يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْكُمْ عَلَى رَجُلٍ وَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ كَمَا مَضَى، وَالْعَدَدُ أَوْلَى بِالْحِفْظِ مِنَ الْوَاحِدِ وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، وَهُشَيْمِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ ذَكَرَهُ، وَلَمْ يَذْكُرَا سَهْلًا وَلَا رَافِعًا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن ابی حثمہ اور سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل خیبر کی طرف گئے اور کھجوروں کے باغ میں جدا جدا ہو گئے تو عبداللہ بن سہل قتل کر دیے گئے۔ انہوں نے یہود پر الزام لگایا، تو ان کے بھائی عبدالرحمن بن سہل اور ان کے دونوں چچا زاد حویصہ اور محیصہ نبی ﷺ کے پاس آئے، عبدالرحمن نے اپنے بھائی کے معاملے میں بات کی حالانکہ وہ ان میں سب سے چھوٹے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بڑا، بڑا“ یا فرمایا: ”بڑا پہلے بات کرے۔“ تو ان دونوں نے اپنے ساتھی کے معاملے میں بات کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے پچاس آدمی ان میں سے کسی ایک آدمی پر قسم اٹھائیں گے تو اسے رسی سمیت تمہارے حوالے کر دیا جائے؟“ انہوں نے کہا: ”یہ ایسا معاملہ ہے جس میں ہم موجود نہیں تھے، ہم کیسے قسم اٹھائیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو یہودی اپنے پچاس آدمیوں کی قسموں کے ذریعے تمہارے دعوے سے بری ہو جائیں؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! وہ کافر لوگ ہیں۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا کر دی۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ایک دن ان کے باڑے میں داخل ہوا تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے اپنی ٹانگ سے لات ماری۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے پچاس آدمیوں کی قسموں کے ذریعے اپنے ساتھی“ یا فرمایا: ”اپنے مقتول (کے خون) کے مستحق بن جاؤ۔“ انہوں نے کہا: ”یہ ایسا معاملہ ہے جس میں ہم موجود نہیں تھے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو یہودی اپنے پچاس آدمیوں کی قسموں کے ذریعے تمہارے دعوے سے بری ہو جائیں“، اور باقی حدیث اسی معنی میں ذکر کی۔
حماد بن زید نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے: ”تم میں سے پچاس آدمی ایک آدمی پر قسم اٹھائیں“، جبکہ جماعت کی روایت وہی ہے جو گزر چکی، اور ایک راوی کے مقابلے میں جماعت کا یاد رکھنا زیادہ قابلِ ترجیح ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے پچاس آدمیوں کی قسموں کے ذریعے اپنے ساتھی“ یا فرمایا: ”اپنے مقتول (کے خون) کے مستحق بن جاؤ۔“ انہوں نے کہا: ”یہ ایسا معاملہ ہے جس میں ہم موجود نہیں تھے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو یہودی اپنے پچاس آدمیوں کی قسموں کے ذریعے تمہارے دعوے سے بری ہو جائیں“، اور باقی حدیث اسی معنی میں ذکر کی۔
حماد بن زید نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے: ”تم میں سے پچاس آدمی ایک آدمی پر قسم اٹھائیں“، جبکہ جماعت کی روایت وہی ہے جو گزر چکی، اور ایک راوی کے مقابلے میں جماعت کا یاد رکھنا زیادہ قابلِ ترجیح ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ بَشِيرَ بْنَ يَسَارٍ، مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ الْأَنْصَارِيِّينَ، أَخْبَرَهُ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا فَقِيهًا، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ مِنْ أَهْلِ دَارِهِ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالًا مِنْهُمْ: رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ، وَسُوَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثُوهُ أَنَّ الْقَسَامَةَ كَانَتْ فِيهِمْ فِي بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ فِي رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يُدْعَى عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ، قُتِلَ بِخَيْبَرَ، وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمْ: " تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ فَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَكُمْ أَوْ قَالَ: صَاحِبَكُمْ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَا شَهِدْنَا وَلَا حَضَرْنَا، فَزَعَمَ بَشِيرٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمْ: " فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ " فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى، فَخَالَفَ الْجَمَاعَةَ فِي لَفْظِهِ.
حافظ ثناء اللہ
بنو حارثہ انصار کے آزاد کردہ غلام بشیر بن یسار رحمہ اللہ — جو بہت بوڑھے اور فقیہ تھے اور انہوں نے اپنے محلے بنو حارثہ میں نبی ﷺ کے کئی صحابہ کو پایا تھا، جن میں رافع بن خدیج، سہل بن ابی حثمہ اور سوید بن نعمان رضی اللہ عنہم شامل ہیں — بیان کرتے ہیں کہ ان صحابہ نے انہیں بتایا کہ قسامہ انہی میں، بنو حارثہ بن حارث میں، انصار کے ایک آدمی کے بارے میں ہوا تھا جس کا نام عبداللہ بن سہل تھا اور وہ خیبر میں قتل ہوا تھا، اور رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا تھا: ”تم پچاس قسمیں اٹھاؤ تو اپنے قاتل“ یا فرمایا: ”اپنے ساتھی (کے خون) کے مستحق بن جاؤ گے۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! نہ ہم نے دیکھا اور نہ ہم موجود تھے۔“ بشیر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تو یہودی پچاس (قسموں) کے ذریعے تمہارے دعوے سے بری ہو جائیں“، پھر باقی حدیث ذکر کی۔
سفیان بن عیینہ نے اسے یحییٰ سے روایت کیا تو اس کے الفاظ میں جماعت کی مخالفت کی۔
سفیان بن عیینہ نے اسے یحییٰ سے روایت کیا تو اس کے الفاظ میں جماعت کی مخالفت کی۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، سَمِعَ بَشِيرَ بْنَ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: وُجِدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ قَتِيلًا فِي قَلِيبٍ مِنْ قُلُبِ خَيْبَرَ، فَجَاءَ أَخُوهُ ⦗٢٠٨⦘ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَعَمَّاهُ حُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكُبْرَ الْكُبْرَ " فَتَكَلَّمَ أَحَدُ عَمَّيْهِ الْكَبِيرُ مِنْهُمَا، إِمَّا حُوَيِّصَةُ، وَإِمَّا مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا وَجَدْنَا عَبْدَ اللهِ، قَتِيلًا فِي قَلِيبٍ مِنْ قُلُبِ خَيْبَرَ، فَذَكَرَ يَهُودَ وَعَدَاوَتِهُمْ وَشَرَّهُمْ، قَالَ: " أَفَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا يَحْلِفُونَ أَنَّهُمْ لَمْ يَقْتُلُوهُ؟ " قَالُوا: وَكَيْفَ نَرْضَى بِأَيْمَانِهِمْ وَهُمْ مُشْرِكُونَ؟ قَالَ: " فَيُقْسِمُ مِنْكُمْ خَمْسُونَ أَنَّهُمْ قَتَلُوهُ؟ " قَالُوا: وَكَيْفَ نُقْسِمُ عَلَى مَا لَمْ نَرَهُ؟ قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ النَّاقِدِ، عَنْ سُفْيَانَ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَسُقْ مَتْنَهُ، وَأَحَالَ بِهِ عَلَى رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ،.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل خیبر کے کنووں میں سے ایک کنویں میں مقتول پائے گئے، تو ان کے بھائی عبدالرحمن بن سہل اور ان کے دونوں چچا حویصہ اور محیصہ آئے، عبدالرحمن نبی ﷺ کے پاس بات کرنے لگے تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”بڑا، بڑا۔“ تو ان کے دونوں چچاؤں میں سے بڑے نے بات کی، یا تو حویصہ نے یا محیصہ نے، اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم نے عبداللہ کو خیبر کے کنووں میں سے ایک کنویں میں مقتول پایا ہے“، اور یہود کا، ان کی دشمنی اور ان کے شر کا ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہودی پچاس قسمیں اٹھا کر کہ انہوں نے اسے قتل نہیں کیا، تمہارے دعوے سے بری ہو جائیں؟“ انہوں نے کہا: ”ہم ان کی قسموں پر کیسے راضی ہوں جبکہ وہ مشرک ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو کیا تم میں سے پچاس آدمی قسم اٹھائیں گے کہ انہوں نے اسے قتل کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”جو ہم نے دیکھا نہیں اس پر کیسے قسم اٹھائیں؟“ راوی کہتے ہیں: تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا کر دی۔
وَيُذْكَرُ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يُتْقِنْهُ إِتْقَانَ هَؤُلَاءِ، رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَقِيبَ حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ، ثُمَّ قَالَ: إِلَّا أَنَّ ابْنَ عُيَيْنَةَ كَانَ لَا يُثْبِتُ أَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارِيِّينَ فِي الْأَيْمَانِ أَوْ يَهُودَ، فَيُقَالُ: فِي الْحَدِيثِ أَنَّهُ قَدَّمَ الْأَنْصَارِيِّينَ، فَيَقُولُ: فَهُوَ ذَاكَ أَوْ مَا أَشْبَهَ هَذَا: أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ وَبَشِيرِ بْنِ أَبِي كَيْسَانَ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، نَحْوَ رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ فِي الْبِدَايَةِ بِأَيْمَانِ الْمُدَّعِينَ.
حافظ ثناء اللہ
سفیان بن عیینہ سے ایسی بات ذکر کی جاتی ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو ان راویوں کی طرح پختگی سے یاد نہیں رکھا۔ امام شافعی رحمہ اللہ ابن عیینہ سے حدیثِ ثقفی نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ ابن عیینہ یقین سے نہیں بتاتے تھے کہ نبی ﷺ نے قسم کے لیے انصار کو مقدم کیا تھا یا یہودیوں کو، ان سے کہا جاتا کہ حدیث میں یہ ہے کہ انصاریوں کو مقدم کیا تھا، تو وہ کہتے: تو پھر وہی ہے، یا اس جیسی کوئی بات کہتے۔
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سَعِيدٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّائِيِّ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، زَعَمَ أَنَّ رَجُلًا، مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا، فَقَالُوا لِلَّذِينَ وَجَدُوهُ عِنْدَهُمْ: قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا؟ قَالُوا: مَا قَتَلْنَا وَلَا عَلِمْنَا، قَالَ: فَانْطَلَقُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ انْطَلَقْنَا إِلَى خَيْبَرَ فَوَجَدْنَا أَحَدَنَا قَتِيلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكُبْرَ الْكُبْرَ" فَقَالَ لَهُمْ: " تَأْتُونَ بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَ؟ " قَالُوا: مَا لَنَا بَيِّنَةٌ، قَالَ: " فَيَحْلِفُونَ لَكُمْ؟ " قَالُوا: لَا نَرْضَى بِأَيْمَانِ الْيَهُودِ وَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ فَوَدَاهُ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ ⦗٢٠٩⦘ لَفْظُ حَدِيثِ الْقَطَّانِ، وَفِي رِوَايَةِ غَيْرِهِ: فَوَدَاهُ بِمِائَةٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، دُونَ سِيَاقَةِ مَتْنِهِ، وَإِنَّمَا لَمْ يَسُقْ مَتْنَهُ لِمُخَالَفَتِهِ رِوَايَةَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي جُمْلَةِ مَا قَالَ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ: وَغَيْرُ مُشْكِلٍ عَلَى مَنْ عَقَلَ التَّمْيِيزَ مِنَ الْحُفَّاظِ أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ أَحْفَظُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ وَأَرْفَعُ مِنْهُ شَأْنًا فِي طَرِيقِ الْعِلْمِ وَأَسْبَابِهِ، فَهُوَ أَوْلَى بِالْحِفْظِ مِنْهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنْ صَحَّتْ رِوَايَةُ سَعِيدٍ، فَهِيَ لَا تُخَالِفُ رِوَايَةَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، لِأَنَّهُ قَدْ يُرِيدُ بِالْبَيِّنَةِ الْأَيْمَانَ مَعَ اللَّوْثِ كَمَا فَسَّرَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَقَدْ يُطَالِبُهُمْ بِالْبَيِّنَةِ كَمَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، ثُمَّ يَعْرِضُ عَلَيْهِمُ الْأَيْمَانَ مَعَ وُجُودِ اللَّوْثِ كَمَا فِي رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ثُمَّ يَرُدُّهَا عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ عِنْدَ نُكُولِ الْمُدَّعِينَ كَمَا فِي الرِّوَايَتَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کی قوم کے چند لوگ خیبر گئے اور وہ جدا جدا ہو گئے، پھر انہوں نے ان میں سے ایک کو مقتول پایا تو انہوں نے وہاں کے لوگوں سے کہا کہ ہمارے ساتھی کو تم نے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: نہ ہم نے قتل کیا ہے اور نہ ہی ہم جانتے ہیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ گئے۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! ہم خیبر گئے تو ہمارا ایک ساتھی قتل ہو گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بڑا بات کرے۔“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا کوئی دلیل ہے کہ کس نے قتل کیا ہے؟“ کہنے لگے: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”پھر یہودی قسم اٹھا دیں؟“ کہنے لگے: ہم ان کی قسم پر راضی نہیں ہیں۔ تو آپ ﷺ نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دینا ناپسند فرمایا اور اپنی طرف سے 100 اونٹ اس کی دیت ادا کر دی۔ ایک روایت میں ہے کہ صدقہ کے اونٹوں سے۔
امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حفاظِ حدیث میں سے جو شخص پرکھ کی سمجھ رکھتا ہو اس پر یہ بات مخفی نہیں کہ یحییٰ بن سعید، سعید بن عبید سے زیادہ حافظے والے اور علم کی راہ اور اس کے اسباب میں ان سے بلند مرتبہ ہیں، لہٰذا وہ یاد رکھنے میں ان سے زیادہ قابلِ ترجیح ہیں۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر سعید کی روایت صحیح ہو تو بھی وہ بشیر بن یسار سے یحییٰ بن سعید کی روایت کے خلاف نہیں، کیونکہ دلیل سے مراد کبھی شبہ (لوث) کے ساتھ قسمیں ہوتی ہیں جیسا کہ یحییٰ بن سعید نے اس کی وضاحت کی، اور کبھی آپ ﷺ ان سے پہلے دلیل کا مطالبہ کرتے ہیں جیسا کہ اس روایت میں ہے، پھر شبہ موجود ہونے کی وجہ سے ان پر قسمیں پیش کرتے ہیں جیسا کہ یحییٰ بن سعید کی روایت میں ہے، پھر مدعیوں کے انکار پر قسمیں مدعی علیہم پر لوٹا دیتے ہیں جیسا کہ دونوں روایتوں میں ہے۔
امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حفاظِ حدیث میں سے جو شخص پرکھ کی سمجھ رکھتا ہو اس پر یہ بات مخفی نہیں کہ یحییٰ بن سعید، سعید بن عبید سے زیادہ حافظے والے اور علم کی راہ اور اس کے اسباب میں ان سے بلند مرتبہ ہیں، لہٰذا وہ یاد رکھنے میں ان سے زیادہ قابلِ ترجیح ہیں۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر سعید کی روایت صحیح ہو تو بھی وہ بشیر بن یسار سے یحییٰ بن سعید کی روایت کے خلاف نہیں، کیونکہ دلیل سے مراد کبھی شبہ (لوث) کے ساتھ قسمیں ہوتی ہیں جیسا کہ یحییٰ بن سعید نے اس کی وضاحت کی، اور کبھی آپ ﷺ ان سے پہلے دلیل کا مطالبہ کرتے ہیں جیسا کہ اس روایت میں ہے، پھر شبہ موجود ہونے کی وجہ سے ان پر قسمیں پیش کرتے ہیں جیسا کہ یحییٰ بن سعید کی روایت میں ہے، پھر مدعیوں کے انکار پر قسمیں مدعی علیہم پر لوٹا دیتے ہیں جیسا کہ دونوں روایتوں میں ہے۔
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ ⦗٢١٠⦘ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدِ بْنِ قَيْظِيٍّ، أَخِي بَنِي حَارِثَةَ، قَالَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ: وَايْمُ اللهِ، مَا كَانَ سَهْلٌ بِأَكْثَرَ عِلْمًا مِنْهُ، وَلَكِنَّهُ كَانَ أَسَنَّ مِنْهُ، إِنَّهُ قَالَ لَهُ: وَاللهِ مَا هَكَذَا كَانَ الشَّانُ، وَلَكِنْ سَهْلٌ أَوْهَمَ مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْلِفُوا عَلَى مَا لَا عِلْمَ لَكُمْ بِهِ، وَلَكِنَّهُ كَتَبَ إِلَى يَهُودَ خَيْبَرَ حِينَ كَلَّمَتْهُ الْأَنْصَارُ: أَنَّهُ وُجِدَ فِيكُمْ قَتِيلٌ بَيْنَ أَبْيَاتِكُمْ فَدُوهُ، فَكَتَبُوا إِلَيْهِ يَحْلِفُونَ بِاللهِ مَا قَتَلُوهُ وَلَا يَعْلَمُونَ لَهُ قَاتِلًا، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن بجید بن قیظی سے روایت ہے، جو بنو حارثہ سے تھے — ابنِ ابراہیم کہتے ہیں: «وَاللّٰهِ»! سہل رضی اللہ عنہ علم میں ان سے بڑھ کر نہ تھے لیکن عمر میں ان سے بڑے تھے — کہ انہوں نے ان سے کہا: «وَاللّٰهِ»! معاملہ اس طرح نہیں تھا، بلکہ سہل رضی اللہ عنہ کو وہم ہوا، رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ”جس کا تمہیں علم نہیں اس پر قسم اٹھاؤ“، بلکہ جب انصار رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ سے بات کی تو آپ ﷺ نے خیبر کے یہود کی طرف لکھا کہ تمہارے ہاں تمہارے گھروں کے درمیان ایک مقتول پایا گیا ہے، لہٰذا اس کی دیت ادا کرو۔ تو انہوں نے اللہ کی قسم اٹھا کر لکھ بھیجا کہ نہ انہوں نے اسے قتل کیا ہے اور نہ وہ اس کے قاتل کو جانتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی دیت اپنی طرف سے ادا کر دی۔
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: وَمِنْ كِتَابِ عُمَرَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقَالَ لِي قَائِلٌ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْخُذَ بِحَدِيثِ ابْنِ بُجَيْدٍ؟ قَالَ: لَا أَعْلَمُ ابْنَ بُجَيْدٍ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ مُرْسَلٌ، وَلَسْنَا وَلَا إِيَّاكَ نُثْبِتُ الْمُرْسَلَ، وَقَدْ عَلِمْتُ سَهْلًا صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعَ مِنْهُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ سِيَاقًا لَا يُشْبِهُ إِلَّا الْأَثْبَاتَ، فَأَخَذْتُ بِهِ لِمَا وَصَفْتُ، قَالَ: فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْخُذَ بِحَدِيثِ ابْنِ شِهَابٍ؟ قُلْتُ:⦗٢١١⦘ مُرْسَلٌ، وَالْقَتِيلُ أَنْصَارِيٌّ، وَالْأَنْصَارِيُّونَ بِالْعِنَايَةِ أَوْلَى بِالْعِلْمِ بِهِ مِنْ غَيْرِهِمْ إِذَا كَانَ كُلٌّ ثِقَةً، وَكُلٌّ عِنْدَنَا بِنِعْمَةِ اللهِ ثِقَةٌ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَأَنَّهُ عَنَى بِحَدِيثِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ الْحَدِيثَ الَّذِي.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے کسی نے کہا: آپ ابن بجید کی روایت کیوں نہیں لیتے؟ امام شافعی رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ ہمیں نہیں پتا کہ ابن بجید نے نبی ﷺ سے کچھ سنا بھی ہے یا نہیں، اگر نہیں سنا تو وہ مرسل ہے اور نہ ہم اور نہ آپ مرسل کو ثابت سمجھتے ہیں، اور سہل رضی اللہ عنہ صحابی ہیں اور انہوں نے نبی ﷺ سے سنا بھی ہے اور انہوں نے حدیث کو اس انداز سے بیان کیا ہے جو صرف پختہ راویوں کے مشابہ ہے، تو اسی وجہ سے ہم ان کی روایت لیتے ہیں۔ پھر پوچھا: زہری کی روایت کیوں نہیں لیتے؟ تو میں نے کہا: مرسل ہونے کی وجہ سے، اور مقتول انصاری تھا اور انصار اپنی توجہ کی وجہ سے دوسروں کی نسبت اس کا زیادہ علم رکھتے ہیں جبکہ سب ثقہ ہوں، اور ہمارے نزدیک اللہ کے فضل سے سب ثقہ ہیں۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گویا ابن شہاب زہری کی حدیث سے ان کی مراد وہ حدیث ہے جو آگے آ رہی ہے۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گویا ابن شہاب زہری کی حدیث سے ان کی مراد وہ حدیث ہے جو آگے آ رہی ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رِجَالٍ، مِنَ الْأَنْصَارِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِيَهُودَ وَبَدَأَ بِهِمْ: " يَحْلِفُ مِنْكُمْ خَمْسُونَ رَجُلًا؟ " فَأَبَوْا، فَقَالَ لِلْأَنْصَارِ: " اسْتَحِقُّوا " فَقَالُوا: نَحْلِفُ عَلَى الْغَيْبِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَجَعَلَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودَ، لِأَنَّهُ وُجِدَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ وَهَذَا مُرْسَلٌ بِتَرْكِ تَسْمِيَةِ الَّذِينَ حَدَّثُوهُمَا، وَهُوَ يُخَالِفُ الْحَدِيثَ الْمُتَّصِلَ فِي الْبِدَايَةِ بِالْقَسَامَةِ، وَفِي إِعْطَاءِ الدِّيَةِ، وَالثَّابِتُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ وَدَاهُ مِنْ عِنْدِهِ وَقَدْ خَالَفَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ وَغَيْرُهُ فِي لَفْظِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ انصار رضی اللہ عنہم کے لوگوں سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے یہودیوں سے ابتدا کرتے ہوئے انہیں کہا: ”تم میں سے 50 آدمی قسم اٹھائیں“ تو انہوں نے انکار کر دیا، پھر انصار رضی اللہ عنہم کو قسم کا کہا تو وہ کہنے لگے کہ ہم غیب پر کیسے قسم اٹھائیں؟ تو آپ ﷺ نے یہودیوں پر دیت لگا دی؛ کیونکہ وہ انہی کے علاقے سے ملا تھا۔ یہ روایت مرسل ہے کیونکہ بیان کرنے والوں کے نام نہیں لیے گئے، اور یہ قسامہ کی ابتدا اور دیت دینے کے بارے میں متصل حدیث کے خلاف ہے، اور صحیح سند سے یہ ثابت ہے کہ دیت نبی ﷺ نے اپنی طرف سے ادا کی تھی۔ ابن جریج وغیرہ نے اس کے الفاظ میں ان کی مخالفت کی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْحِيرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقَرَّ الْقَسَامَةَ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ نَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي قَتِيلٍ ادَّعَوْهُ عَلَى الْيَهُودِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، وَيُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، إِلَّا أَنَّ حَدِيثَ يُونُسَ مُخْتَصَرٌ.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ اصحابِ رسول رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جاہلیت کے قسامہ کو برقرار رکھا اور اس کے ذریعے اس کا فیصلہ فرمایا کہ جب انصار نے یہودیوں پر اپنے آدمی کے قتل کا دعویٰ کیا تھا۔
وَرَوَاهُ عَقِيلٌ كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ، أنبأ اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ الْقَسَامَةَ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَسَامَةَ الدَّمِ، فَأَقَرَّهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ ادَّعَوْا عَلَى الْيَهُودِ وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَقِيلٍ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ روایت۔
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَقِيلٌ، وَقُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: مَضَتِ السُّنَّةُ فِي الْقَسَامَةِ أَنْ يُحَلِّفَ خَمْسِينَ رَجُلًا خَمْسِينَ يَمِينًا، فَإِنْ نَكَلَ وَاحِدٌ مِنْهُمْ لَمْ يُعْطَوَا الدَّمَ وَهَذَا مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سنت گزر چکی ہے کہ قسامہ میں 50 آدمی 50 قسمیں اٹھائیں، اگر ایک بھی پھر گیا تو انہیں خون (یعنی قصاص) کا حق نہیں دیا جائے گا۔
یہ روایت منقطع ہے۔
یہ روایت منقطع ہے۔
وَاحْتَجَّ أَصْحَابُنَا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الزَّنْجِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْبَيِّنَةُ عَلَى مَنِ ادَّعَى، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ، إِلَّا فِي الْقَسَامَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دلیل مدعی کے ذمے ہے اور مدعی علیہ پر قسم ہے قسامہ کے علاوہ میں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، وَهُوَ الزَّنْجِيُّ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ روایت۔
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ الْيَرْبُوعِيُّ، فِي بَنِي حَرَامٍ، ثنا سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وُجِدَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَتِيلًا فِي دَالِيَةِ نَاسٍ مَعَ الْيَهُودِ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ: فَأَخَذَ مِنْهُمْ خَمْسِينَ رَجُلًا مِنْ خِيَارِهِمْ فَاسْتَحْلَفَهُمْ بِاللهِ: مَا قَتَلْنَا وَلَا عَلِمْنَا قَاتِلًا، وَجَعَلَ عَلَيْهِمُ الدِّيَةَ، فَقَالُوا: لَقَدْ قَضَى بِمَا قَضَى فِينَا نَبِيُّنَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَهَذَا لَا يُحْتَجُّ بِهِ، الْكَلْبِيُّ مَتْرُوكٌ، وَأَبُو صَالِحٍ هَذَا ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی یہود کے علاقے میں مقتول پایا گیا تو نبی ﷺ نے ان کی طرف کسی کو بھیجا کہ ان کے 50 مختار لوگوں سے قسم لے کر آئے۔ انہوں نے اللہ کی قسم کھا لی کہ ”نہ ہم نے قتل کیا اور نہ ہم جانتے ہیں“ تو آپ ﷺ نے ان پر دیت لگا دی۔ وہ کہنے لگے: ”وہی فیصلہ کیا ہے جو ہم پر ہمارے نبی موسیٰ علیہ السلام نے کیا تھا۔“
یہ روایت قابلِ حجت نہیں، کلبی متروک ہے اور یہ ابو صالح ضعیف ہے۔
یہ روایت قابلِ حجت نہیں، کلبی متروک ہے اور یہ ابو صالح ضعیف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيٌّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْحَفِيدُ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ لِيَ الْكَلْبِيُّ: قَالَ لِي أَبُو صَالِحٍ: كُلُّ مَا حَدَّثْتُكَ بِهِ كَذِبٌ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید، سفیان ثوری رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھے کلبی نے کہا: مجھے ابو صالح رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے جو کچھ بھی تجھ سے بیان کیا وہ جھوٹ ہے۔
وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ يَعْنِي الشَّعْبِيَّ، أَنَّ قَتِيلًا وُجِدَ فِي خَرِبَةِ وَادِعَةِ هَمْدَانَ، فَرُفِعَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَحْلَفَهُمْ خَمْسِينَ يَمِينًا: مَا قَتَلْنَا وَلَا عَلِمْنَا قَاتِلًا، ثُمَّ غَرَّمَهُمُ الدِّيَةَ، ثُمَّ قَالَ: يَا مَعْشَرَ هَمْدَانَ حَقَنْتُمْ دِمَاءَكُمْ بِأَيْمَانِكُمْ، فَمَا يَبْطُلُ دَمُ هَذَا الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمدان کے علاقے میں ایک مقتول پایا گیا، فیصلہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو انہوں نے اس پر پچاس قسمیں اٹھائیں کہ نہ ہم نے قتل کیا اور نہ ہم جانتے ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان پر دیت کا جرمانہ لگا دیا اور فرمایا: اے ہمدان کے لوگو! تم قسم سے اس کے خون سے تو بری ہو گئے ہو لیکن میں ایک مسلمان کا خون رائیگاں نہیں کر سکتا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَتَبَ فِي قَتِيلٍ وُجِدَ بَيْنَ خَيْوَانَ وَوَادِعَةَ، أَنْ يُقَاسَ مَا بَيْنَ الْقَرْيَتَيْنِ، فَإِلَى أَيِّهِمَا كَانَ أَقْرَبَ أَخْرَجَ إِلَيْهِمْ مِنْهُمْ خَمْسِينَ رَجُلًا حَتَّى يُوَافُوهُ مَكَّةَ، فَأَدْخَلَهُمُ الْحَجَرَ فَأَحْلَفَهُمْ، ثُمَّ قَضَى عَلَيْهِمْ بِالدِّيَةِ، فَقَالُوا: مَا وَقَتْ أَمْوَالُنَا أَيْمَانَنَا، وَلَا أَيْمَانُنَا أَمْوَالَنَا، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَذَلِكَ الْأَمْرُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَالَ غَيْرُ سُفْيَانَ: عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: حَقَنْتُمْ بِأَيْمَانِكُمْ دِمَاءَكُمْ، وَلَا يُطَلُّ دَمُ مُسْلِمٍ فَقَدْ ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْجَوَابِ عَنْهُ مَا يُخَالِفُونَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ مِنَ الْأَحْكَامِ، ثُمَّ قِيلَ لَهُ: الثَّابِتُ هُوَ عِنْدَكَ، قَالَ: لَا، إِنَّمَا رَوَاهُ الشَّعْبِيُّ، عَنِ ⦗٢١٥⦘ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ، وَالْحَارِثُ مَجْهُولٌ، وَنَحْنُ نَرْوِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْإِسْنَادِ الثَّابِتِ أَنَّهُ بَدَأَ بِالْمُدَّعِينَ، فَلَمَّا لَمْ يَحْلِفُوا قَالَ: فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا وَإِذْ قَالَ: تُبْرِئُكُمْ فَلَا يَكُونُ عَلَيْهِمْ غَرَامَةٌ، وَلَمَّا لَمْ يَقْبَلِ الْأَنْصَارِيُّونَ أَيْمَانَهُمْ وَدَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَجْعَلْ عَلَى يَهُودَ الْقَتِيلَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ شَيْئًا⦗٢١٦⦘ قَالَ الرَّبِيعُ: أَخْبَرَنِي بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: حَارِثٌ الْأَعْوَرُ كَانَ كَذَّابًا وَرُوِيَ عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَمُجَالِدٌ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ وَرُوِيَ عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْأَزْمَعِ، عَنْ عُمَرَ، وَأَبُو إِسْحَاقَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْحَارِثِ بْنِ الْأَزْمَعِ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: عَنْ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ حَدِيثَ الْحَارِثِ بْنِ الْأَزْمَعِ، أَنَّ قَتِيلًا وُجِدَ بَيْنَ وَادِعَةٍ وَخَيْوَانَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ، مَنْ حَدَّثَكَ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْأَزْمَعِ، فَعَادَتْ رِوَايَةُ أَبِي إِسْحَاقَ إِلَى حَدِيثِ مُجَالِدٍ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى مُجَالِدٍ فِي إِسْنَادِهِ، وَمُجَالِدٌ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ انہیں ایک مقتول کے بارے میں لکھا گیا جو دو بستیوں کے درمیان میں ہوا۔ انہوں نے فرمایا: ”جس بستی کے وہ زیادہ قریب ہو اس کے 50 آدمی آئیں اور وہ قسم اٹھائیں۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ان پر دیت لگا دی، وہ کہنے لگے: ”ہماری قسموں نے نہ تو ہمارے مالوں کو بچایا اور نہ ہمارے مالوں نے ہماری قسموں کو۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”معاملہ کچھ ایسا ہی ہے۔“ [ضعیف]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سفیان کے علاوہ نے کہا کہ عاصم احول رحمہ اللہ امام شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہارے خون کو تمہاری قسموں نے بچا لیا لیکن میں ایک مسلمان کا خون باطل نہیں ہونے دوں گا۔“ پھر امام شافعی رحمہ اللہ نے ایک سوال کے جواب میں وہ مسائل ذکر کیے کہ جن کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس قصہ میں مخالفت کر رہے ہیں۔ پھر پوچھا گیا کہ کیا یہ قصہ آپ کے نزدیک ثابت ہے؟ فرمایا: ”نہیں۔“ امام شعبی رحمہ اللہ اسے حارث اعور سے نقل کرتے ہیں اور حارث اعور مجہول ہے۔ صحیح اور ثابت سند سے یہ بات ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہودیوں سے بھی قسم کا مطالبہ کیا، لیکن انصار نہ مانے تو آپ ﷺ نے یہودیوں پر نہیں بلکہ اپنی طرف سے دیت ادا کی تھی۔
ربیع کہتے ہیں: مجھے ایک اہلِ علم نے جریر سے، انہوں نے مغیرہ سے اور انہوں نے امام شعبی رحمہ اللہ سے بتایا کہ انہوں نے فرمایا: حارث اعور کذاب تھا۔ یہ روایت مجالد عن الشعبی عن مسروق عن عمر رضی اللہ عنہ کی سند سے بھی مروی ہے، اور مجالد قابلِ حجت نہیں۔ اور مطرف عن ابی اسحاق عن الحارث بن الازمع عن عمر کی سند سے بھی مروی ہے، اور ابو اسحاق نے حارث بن ازمع سے نہیں سنا۔ علی بن مدینی نے ابو زید سے اور انہوں نے شعبہ سے نقل کیا کہ انہوں نے کہا: میں نے ابو اسحاق کو حارث بن ازمع کی یہ حدیث بیان کرتے سنا کہ ایک مقتول وادعہ اور خیوان کے درمیان پایا گیا، تو میں نے کہا: اے ابو اسحاق! آپ کو یہ کس نے بیان کی؟ انہوں نے کہا: مجھے مجالد نے شعبی سے اور انہوں نے حارث بن ازمع سے بیان کی۔ تو ابو اسحاق کی روایت مجالد کی حدیث کی طرف لوٹ گئی، اور اس کی سند میں مجالد پر اختلاف ہے، اور مجالد قابلِ حجت نہیں۔ واللہ اعلم۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سفیان کے علاوہ نے کہا کہ عاصم احول رحمہ اللہ امام شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہارے خون کو تمہاری قسموں نے بچا لیا لیکن میں ایک مسلمان کا خون باطل نہیں ہونے دوں گا۔“ پھر امام شافعی رحمہ اللہ نے ایک سوال کے جواب میں وہ مسائل ذکر کیے کہ جن کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس قصہ میں مخالفت کر رہے ہیں۔ پھر پوچھا گیا کہ کیا یہ قصہ آپ کے نزدیک ثابت ہے؟ فرمایا: ”نہیں۔“ امام شعبی رحمہ اللہ اسے حارث اعور سے نقل کرتے ہیں اور حارث اعور مجہول ہے۔ صحیح اور ثابت سند سے یہ بات ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہودیوں سے بھی قسم کا مطالبہ کیا، لیکن انصار نہ مانے تو آپ ﷺ نے یہودیوں پر نہیں بلکہ اپنی طرف سے دیت ادا کی تھی۔
ربیع کہتے ہیں: مجھے ایک اہلِ علم نے جریر سے، انہوں نے مغیرہ سے اور انہوں نے امام شعبی رحمہ اللہ سے بتایا کہ انہوں نے فرمایا: حارث اعور کذاب تھا۔ یہ روایت مجالد عن الشعبی عن مسروق عن عمر رضی اللہ عنہ کی سند سے بھی مروی ہے، اور مجالد قابلِ حجت نہیں۔ اور مطرف عن ابی اسحاق عن الحارث بن الازمع عن عمر کی سند سے بھی مروی ہے، اور ابو اسحاق نے حارث بن ازمع سے نہیں سنا۔ علی بن مدینی نے ابو زید سے اور انہوں نے شعبہ سے نقل کیا کہ انہوں نے کہا: میں نے ابو اسحاق کو حارث بن ازمع کی یہ حدیث بیان کرتے سنا کہ ایک مقتول وادعہ اور خیوان کے درمیان پایا گیا، تو میں نے کہا: اے ابو اسحاق! آپ کو یہ کس نے بیان کی؟ انہوں نے کہا: مجھے مجالد نے شعبی سے اور انہوں نے حارث بن ازمع سے بیان کی۔ تو ابو اسحاق کی روایت مجالد کی حدیث کی طرف لوٹ گئی، اور اس کی سند میں مجالد پر اختلاف ہے، اور مجالد قابلِ حجت نہیں۔ واللہ اعلم۔
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا، ثنا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ صُبْحٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا حَجَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، حَجَّتَهُ الْأَخِيرَةَ الَّتِي لَمْ يَحُجَّ غَيْرَهَا، غُودِرَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَتِيلًا بِبَنِي وَادِعَةَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ عُمَرُ، وَذَلِكَ بَعْدَمَا قَضَى النُّسُكَ، وَقَالَ لَهُمْ: هَلْ عَلِمْتُمْ لِهَذَا الْقَتِيلِ قَاتِلًا مِنْكُمْ؟ قَالَ الْقَوْمُ: لَا فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُمْ خَمْسِينَ شَيْخًا، فَأَدْخَلَهُمُ الْحَطِيمَ فَاسْتَحْلَفَهُمْ بِاللهِ رَبِّ هَذَا الْبَيْتِ الْحَرَامِ وَرَبِّ هَذَا الْبَلَدِ الْحَرَامِ وَرَبِّ هَذَا الشَّهْرِ الْحَرَامِ: إِنَّكُمْ لَمْ تَقْتُلُوهُ وَلَا عَلِمْتُمْ لَهُ قَاتِلًا، فَحَلَفُوا بِذَلِكَ فَلَمَّا حَلَفُوا قَالَ: أَدُّوا دِيَةً مُغَلَّظَةً فِي أَسْنَانِ الْإِبِلِ أَوْ مِنَ الدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ دِيَةً وَثُلُثًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، يُقَالُ لَهُ سِنَانُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا تَجْزِينِي يَمِينِي مِنْ مَالِي؟ قَالَ: لَا إِنَّمَا قَضَيْتُ عَلَيْكُمْ بِقَضَاءِ نَبِيِّكُمْ فَأَخَذُوا دِيَتَهُ دَنَانِيرَ دِيَةً وَثُلُثَ دِيَةٍ قَالَ عَلِيٌّ: عُمَرُ بْنُ صُبْحٍ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: رَفْعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْكَرٌ، وَهُوَ مَعَ انْقِطَاعِهِ فِي رِوَايَةِ مَنْ أَجْمَعُوا عَلَى تَرْكِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْمُتَّصِلُ أَوْلَى أَنْ يُؤْخَذَ بِهِ مِنَ الْمُنْقَطِعِ، وَالْأَنْصَارِيُّونَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ صَاحِبِهِمْ مِنْ غَيْرِهِمْ ⦗٢١٧⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَيُرْوَى عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ بَدَأَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ، ثُمَّ رَدَّ الْأَيْمَانَ عَلَى الْمُدَّعِينَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آخری حج کیا تو مسلمانوں کا ایک آدمی بنو وداعہ کے پاس قتل ہو گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مناسک ادا کرنے کے بعد ان کی طرف آدمی بھیجا اور ان سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے میں سے اس مقتول کے قاتل کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔ قوم نے انکار کیا تو ان سے پچاس معتبر لوگ قسم کے لیے نکالے گئے اور حطیم میں کھڑا کر کے ان الفاظ سے قسم لی کہ اللہ کی قسم، جو اس حرمت والے گھر کا رب ہے، اس حرمت والے شہر اور حرمت والے مہینے کا رب ہے، تم نے اسے قتل نہیں کیا اور نہ تم اس کے قاتل کو جانتے ہو۔ انہوں نے قسم اٹھا دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان پر دیت مغلظہ لگا دی، اونٹوں کی مخصوص عمروں میں، یا دیناروں اور درہموں میں ایک دیت اور ثلث زائد۔ ایک شخص کہنے لگا، جس کا نام سنان تھا: اے امیر المومنین! کیا میری قسم میرے مال سے کفایت نہیں کرے گی؟ فرمایا: نہیں، میں نے تم میں اللہ کے نبی ﷺ والا فیصلہ کیا ہے۔ تو انہوں نے اس کی دیت دیناروں میں، ایک دیت اور ایک تہائی دیت وصول کی۔
علی کہتے ہیں: عمر بن صبح اس کی سند میں متروک الحدیث ہے۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے نبی ﷺ تک مرفوع بیان کرنا منکر ہے، اور یہ منقطع ہونے کے ساتھ ساتھ ایسے راوی کی روایت میں ہے جس کے ترک پر محدثین کا اتفاق ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: متصل روایت منقطع کی نسبت لینے کے زیادہ لائق ہے، اور انصار اپنے آدمی کی حدیث کو دوسروں سے زیادہ جانتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے مدعی علیہم سے ابتدا کی، پھر قسمیں مدعیوں پر لوٹا دیں۔
علی کہتے ہیں: عمر بن صبح اس کی سند میں متروک الحدیث ہے۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے نبی ﷺ تک مرفوع بیان کرنا منکر ہے، اور یہ منقطع ہونے کے ساتھ ساتھ ایسے راوی کی روایت میں ہے جس کے ترک پر محدثین کا اتفاق ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: متصل روایت منقطع کی نسبت لینے کے زیادہ لائق ہے، اور انصار اپنے آدمی کی حدیث کو دوسروں سے زیادہ جانتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے مدعی علیہم سے ابتدا کی، پھر قسمیں مدعیوں پر لوٹا دیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَعِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ لَيْثٍ أَجْرَى فَرَسًا فَوَطِئَ عَلَى إِصْبَعِ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَنَزَّى مِنْهَا فَمَاتَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلَّذِينَ ادَّعَى عَلَيْهِمْ: أَتَحْلِفُونَ بِاللهِ خَمْسِينَ يَمِينًا مَا مَاتَ مِنْهَا؟ فَأَبَوْا وَتَحَرَّجُوا مِنَ الْأَيْمَانِ، فَقَالَ لِلْآخَرِينَ: احْلِفُوا أَنْتُمْ، فَأَبَوْا، فَقَضَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِشَطْرِ الدِّيَةِ عَلَى السَّعْدِيِّينَ.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار اور عراک بن مالک فرماتے ہیں کہ بنو سعد بن لیث کے ایک آدمی نے گھوڑا دوڑایا تو اس نے جہینہ قبیلہ کے ایک شخص کی انگلی کو روند دیا، اس سے خون بہتا رہا اور وہ مر گیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے مدعی علیہ لوگوں سے کہا: ”کیا تم اللہ کی پچاس قسمیں اٹھاتے ہو کہ وہ اس (زخم) سے نہیں مرا؟“ انہوں نے انکار کر دیا اور قسمیں اٹھانے سے گھبرائے، تو انہوں نے دوسروں سے کہا: تم قسم اٹھاؤ، انہوں نے بھی انکار کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے سعدیوں پر نصف دیت مقرر کر دی۔