السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسامة— قسامت کا بیان
باب: أصل القسامة والبداية فيها مع اللوث بأيمان المدعي باب: قسامہ کی اصل کا بیان، اور لوث (قتل کے ظاہری قرائن) کی موجودگی میں مدعی کی قسموں سے آغاز کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16452
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَعِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ لَيْثٍ أَجْرَى فَرَسًا فَوَطِئَ عَلَى إِصْبَعِ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَنَزَّى مِنْهَا فَمَاتَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلَّذِينَ ادَّعَى عَلَيْهِمْ: أَتَحْلِفُونَ بِاللهِ خَمْسِينَ يَمِينًا مَا مَاتَ مِنْهَا؟ فَأَبَوْا وَتَحَرَّجُوا مِنَ الْأَيْمَانِ، فَقَالَ لِلْآخَرِينَ: احْلِفُوا أَنْتُمْ، فَأَبَوْا، فَقَضَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِشَطْرِ الدِّيَةِ عَلَى السَّعْدِيِّينَ.حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار اور عراک بن مالک فرماتے ہیں کہ بنو سعد بن لیث کے ایک آدمی نے گھوڑا دوڑایا تو اس نے جہینہ قبیلہ کے ایک شخص کی انگلی کو روند دیا، اس سے خون بہتا رہا اور وہ مر گیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے مدعی علیہ لوگوں سے کہا: ”کیا تم اللہ کی پچاس قسمیں اٹھاتے ہو کہ وہ اس (زخم) سے نہیں مرا؟“ انہوں نے انکار کر دیا اور قسمیں اٹھانے سے گھبرائے، تو انہوں نے دوسروں سے کہا: تم قسم اٹھاؤ، انہوں نے بھی انکار کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے سعدیوں پر نصف دیت مقرر کر دی۔