السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسامة— قسامت کا بیان
باب: أصل القسامة والبداية فيها مع اللوث بأيمان المدعي باب: قسامہ کی اصل کا بیان، اور لوث (قتل کے ظاہری قرائن) کی موجودگی میں مدعی کی قسموں سے آغاز کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ يَحْيَى: وَحَسِبْتُهُ قَالَ: وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّهُمَا قَالَا: خَرَجَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ حَتَّى إِذَا كَانَا بِخَيْبَرَ تَفَرَّقَا فِي بَعْضِ مَا هُنَالِكَ، ثُمَّ إِذَا مُحَيِّصَةُ يَجِدُ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ قَتِيلًا، فَدَفَنَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ وَحُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَتَكَلَّمَ قَبْلَ صَاحِبَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَبِّرْ " لِلْكُبْرِ فِي السِّنِّ، فَصَمَتَ وَتَكَلَّمَ صَاحِبَاهُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مَعَهُمَا، فَذَكَرُوا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَقْتَلَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَهْلٍ، فَقَالَ لَهُمْ: " أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا فَتَسْتَحِقُّونَ صَاحِبَكُمْ أَوْ قَاتِلَكُمْ؟ " قَالُوا: وَكَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ؟ قَالَ: " فَتُبَرِّئُكُمْ الْيَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا؟ " قَالُوا: وَكَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ كُفَّارٍ؟ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى عَقْلَهُ ⦗٢٠٦⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ اللَّيْثُ.سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ اور (یحییٰ کے گمان کے مطابق) سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ دونوں کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود بن زید نکلے، جب وہ خیبر میں تھے تو وہاں کسی جگہ جدا جدا ہو گئے، پھر محیصہ نے عبداللہ بن سہل کو مقتول پایا تو انہیں دفن کر دیا، پھر وہ، حویصہ بن مسعود اور عبدالرحمن بن سہل رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور عبدالرحمن ان میں سب سے چھوٹے تھے۔ عبدالرحمن اپنے دونوں ساتھیوں سے پہلے بات کرنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”بڑے کو (بات کرنے دو)“ یعنی عمر میں بڑے کو۔ تو وہ خاموش ہو گئے اور ان کے دونوں ساتھیوں نے بات کی، پھر انہوں نے بھی ان کے ساتھ بات کی۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عبداللہ بن سہل کے قتل کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم پچاس قسمیں اٹھاتے ہو تاکہ اپنے ساتھی یا اپنے قاتل (کے خون) کے مستحق بن جاؤ؟“ انہوں نے کہا: ”ہم کیسے قسم اٹھائیں جبکہ ہم موجود نہیں تھے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو یہودی پچاس قسمیں اٹھا کر تمہارے دعوے سے بری ہو جائیں؟“ انہوں نے کہا: ”ہم کافروں کی قسمیں کیسے قبول کریں؟“ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ دیکھا تو اس کی دیت (خود) ادا کر دی۔