السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسامة— قسامت کا بیان
باب: أصل القسامة والبداية فيها مع اللوث بأيمان المدعي باب: قسامہ کی اصل کا بیان، اور لوث (قتل کے ظاہری قرائن) کی موجودگی میں مدعی کی قسموں سے آغاز کرنے کا بیان۔
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سَعِيدٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّائِيِّ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، زَعَمَ أَنَّ رَجُلًا، مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا، فَقَالُوا لِلَّذِينَ وَجَدُوهُ عِنْدَهُمْ: قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا؟ قَالُوا: مَا قَتَلْنَا وَلَا عَلِمْنَا، قَالَ: فَانْطَلَقُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ انْطَلَقْنَا إِلَى خَيْبَرَ فَوَجَدْنَا أَحَدَنَا قَتِيلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكُبْرَ الْكُبْرَ" فَقَالَ لَهُمْ: " تَأْتُونَ بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَ؟ " قَالُوا: مَا لَنَا بَيِّنَةٌ، قَالَ: " فَيَحْلِفُونَ لَكُمْ؟ " قَالُوا: لَا نَرْضَى بِأَيْمَانِ الْيَهُودِ وَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ فَوَدَاهُ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ ⦗٢٠٩⦘ لَفْظُ حَدِيثِ الْقَطَّانِ، وَفِي رِوَايَةِ غَيْرِهِ: فَوَدَاهُ بِمِائَةٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، دُونَ سِيَاقَةِ مَتْنِهِ، وَإِنَّمَا لَمْ يَسُقْ مَتْنَهُ لِمُخَالَفَتِهِ رِوَايَةَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي جُمْلَةِ مَا قَالَ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ: وَغَيْرُ مُشْكِلٍ عَلَى مَنْ عَقَلَ التَّمْيِيزَ مِنَ الْحُفَّاظِ أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ أَحْفَظُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ وَأَرْفَعُ مِنْهُ شَأْنًا فِي طَرِيقِ الْعِلْمِ وَأَسْبَابِهِ، فَهُوَ أَوْلَى بِالْحِفْظِ مِنْهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنْ صَحَّتْ رِوَايَةُ سَعِيدٍ، فَهِيَ لَا تُخَالِفُ رِوَايَةَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، لِأَنَّهُ قَدْ يُرِيدُ بِالْبَيِّنَةِ الْأَيْمَانَ مَعَ اللَّوْثِ كَمَا فَسَّرَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَقَدْ يُطَالِبُهُمْ بِالْبَيِّنَةِ كَمَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، ثُمَّ يَعْرِضُ عَلَيْهِمُ الْأَيْمَانَ مَعَ وُجُودِ اللَّوْثِ كَمَا فِي رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ثُمَّ يَرُدُّهَا عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ عِنْدَ نُكُولِ الْمُدَّعِينَ كَمَا فِي الرِّوَايَتَيْنِ.سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کی قوم کے چند لوگ خیبر گئے اور وہ جدا جدا ہو گئے، پھر انہوں نے ان میں سے ایک کو مقتول پایا تو انہوں نے وہاں کے لوگوں سے کہا کہ ہمارے ساتھی کو تم نے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: نہ ہم نے قتل کیا ہے اور نہ ہی ہم جانتے ہیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ گئے۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! ہم خیبر گئے تو ہمارا ایک ساتھی قتل ہو گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بڑا بات کرے۔“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا کوئی دلیل ہے کہ کس نے قتل کیا ہے؟“ کہنے لگے: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”پھر یہودی قسم اٹھا دیں؟“ کہنے لگے: ہم ان کی قسم پر راضی نہیں ہیں۔ تو آپ ﷺ نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دینا ناپسند فرمایا اور اپنی طرف سے 100 اونٹ اس کی دیت ادا کر دی۔ ایک روایت میں ہے کہ صدقہ کے اونٹوں سے۔
امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حفاظِ حدیث میں سے جو شخص پرکھ کی سمجھ رکھتا ہو اس پر یہ بات مخفی نہیں کہ یحییٰ بن سعید، سعید بن عبید سے زیادہ حافظے والے اور علم کی راہ اور اس کے اسباب میں ان سے بلند مرتبہ ہیں، لہٰذا وہ یاد رکھنے میں ان سے زیادہ قابلِ ترجیح ہیں۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر سعید کی روایت صحیح ہو تو بھی وہ بشیر بن یسار سے یحییٰ بن سعید کی روایت کے خلاف نہیں، کیونکہ دلیل سے مراد کبھی شبہ (لوث) کے ساتھ قسمیں ہوتی ہیں جیسا کہ یحییٰ بن سعید نے اس کی وضاحت کی، اور کبھی آپ ﷺ ان سے پہلے دلیل کا مطالبہ کرتے ہیں جیسا کہ اس روایت میں ہے، پھر شبہ موجود ہونے کی وجہ سے ان پر قسمیں پیش کرتے ہیں جیسا کہ یحییٰ بن سعید کی روایت میں ہے، پھر مدعیوں کے انکار پر قسمیں مدعی علیہم پر لوٹا دیتے ہیں جیسا کہ دونوں روایتوں میں ہے۔