حدیث نمبر: 16449
وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ يَعْنِي الشَّعْبِيَّ، أَنَّ قَتِيلًا وُجِدَ فِي خَرِبَةِ وَادِعَةِ هَمْدَانَ، فَرُفِعَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَحْلَفَهُمْ خَمْسِينَ يَمِينًا: مَا قَتَلْنَا وَلَا عَلِمْنَا قَاتِلًا، ثُمَّ غَرَّمَهُمُ الدِّيَةَ، ثُمَّ قَالَ: يَا مَعْشَرَ هَمْدَانَ حَقَنْتُمْ دِمَاءَكُمْ بِأَيْمَانِكُمْ، فَمَا يَبْطُلُ دَمُ هَذَا الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ.
حافظ ثناء اللہ

امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمدان کے علاقے میں ایک مقتول پایا گیا، فیصلہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو انہوں نے اس پر پچاس قسمیں اٹھائیں کہ نہ ہم نے قتل کیا اور نہ ہم جانتے ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان پر دیت کا جرمانہ لگا دیا اور فرمایا: اے ہمدان کے لوگو! تم قسم سے اس کے خون سے تو بری ہو گئے ہو لیکن میں ایک مسلمان کا خون رائیگاں نہیں کر سکتا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسامة / حدیث: 16449
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»