حدیث نمبر: 16430
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، حَدَّثَنِي أَبُو لَيْلَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ رِجَالٌ، مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ، وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ هُوَ وَرِجَالٌ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةَ، خَرَجَا خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمَا فَتَفَرَّقَا فِي حَوَائِجِهِمَا، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ، فَأَتَى يَهُودَ فَقَالَ: أَنْتُمْ وَاللهِ قَتَلْتُمُوهُ، فَقَالُوا: وَاللهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَأَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُمْ، فَأَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ، وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ أَخُو الْمَقْتُولِ، فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ يَتَكَلَّمُ، وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ: " كَبِّرْ كَبِّرْ" يُرِيدُ السِّنَّ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ، وَإِمَّا أَنْ يُؤْذَنُوا بِحَرْبٍ" فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ فَكَتَبُوا: إِنَّا وَاللهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ: " تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَتَحْلِفُ يَهُودُ؟ " قَالُوا: لَا، لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِمِائَةِ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ، فَقَالَ سَهْلٌ: لَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ ⦗٢٠٥⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَإِسْمَاعِيلَ، عَنْ مَالِكٍ، وَقَالَ فِي إِسْنَادِهِ كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ: إِنَّهُ أَخْبَرَهُ هُوَ وَرِجَالٌ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ ابْنُ وَهْبٍ وَمَعْنٌ وَغَيْرُهُمَا، عَنْ مَالِكٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ مَالِكٍ، وَقَالَ فِي إِسْنَادِهِ كَمَا قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ.
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما خیبر کی طرف نکلے، کسی وجہ سے دونوں جدا جدا ہو گئے۔ محیصہ رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے بتایا کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا گیا ہے، تو جب یہود آئے تو محیصہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تم نے اسے قتل کیا ہے، «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!““ تو انہوں نے کہا: ”«وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔“ تو وہ مقتول کی قوم کے پاس آئے اور انہیں سارا واقعہ سنایا، تو مقتول کا بڑا بھائی حویصہ اور عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہما نبی ﷺ کے پاس آئے، تو محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات کرنا چاہی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بڑا بات کرے۔“ تو حویصہ رضی اللہ عنہ نے بات کی۔ پھر محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یا تو وہ دیت دیں گے یا جنگ کے لیے تیار ہو جائیں۔“ جب یہ بات یہود تک پہنچی تو انہوں نے آپ ﷺ کو لکھ بھیجا کہ «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ ہم نے قتل نہیں کیا، تو آپ ﷺ نے ان تینوں کو فرمایا: ”کیا تم پچاس قسمیں اٹھاتے ہو کہ انہوں نے ہی قتل کیا ہے؟“ کہنے لگے: ”نہیں۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر یہودی پچاس قسمیں اٹھائیں۔“ کہنے لگے: ”وہ مسلمان ہی نہیں ہیں۔“ تو آپ ﷺ نے ان کو اپنی طرف سے دیت ادا کی۔ سو اونٹنیاں ان کے گھر میں داخل ہوئیں۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک سرخ اونٹنی نے ان میں سے مجھے لات بھی ماری تھی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسامة / حدیث: 16430
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»