السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسامة— قسامت کا بیان
باب: أصل القسامة والبداية فيها مع اللوث بأيمان المدعي باب: قسامہ کی اصل کا بیان، اور لوث (قتل کے ظاہری قرائن) کی موجودگی میں مدعی کی قسموں سے آغاز کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16445
وَاحْتَجَّ أَصْحَابُنَا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الزَّنْجِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْبَيِّنَةُ عَلَى مَنِ ادَّعَى، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ، إِلَّا فِي الْقَسَامَةِ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دلیل مدعی کے ذمے ہے اور مدعی علیہ پر قسم ہے قسامہ کے علاوہ میں۔“