حدیث نمبر: 16440
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: وَمِنْ كِتَابِ عُمَرَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقَالَ لِي قَائِلٌ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْخُذَ بِحَدِيثِ ابْنِ بُجَيْدٍ؟ قَالَ: لَا أَعْلَمُ ابْنَ بُجَيْدٍ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ مُرْسَلٌ، وَلَسْنَا وَلَا إِيَّاكَ نُثْبِتُ الْمُرْسَلَ، وَقَدْ عَلِمْتُ سَهْلًا صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعَ مِنْهُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ سِيَاقًا لَا يُشْبِهُ إِلَّا الْأَثْبَاتَ، فَأَخَذْتُ بِهِ لِمَا وَصَفْتُ، قَالَ: فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْخُذَ بِحَدِيثِ ابْنِ شِهَابٍ؟ قُلْتُ:⦗٢١١⦘ مُرْسَلٌ، وَالْقَتِيلُ أَنْصَارِيٌّ، وَالْأَنْصَارِيُّونَ بِالْعِنَايَةِ أَوْلَى بِالْعِلْمِ بِهِ مِنْ غَيْرِهِمْ إِذَا كَانَ كُلٌّ ثِقَةً، وَكُلٌّ عِنْدَنَا بِنِعْمَةِ اللهِ ثِقَةٌ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَأَنَّهُ عَنَى بِحَدِيثِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ الْحَدِيثَ الَّذِي.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے کسی نے کہا: آپ ابن بجید کی روایت کیوں نہیں لیتے؟ امام شافعی رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ ہمیں نہیں پتا کہ ابن بجید نے نبی ﷺ سے کچھ سنا بھی ہے یا نہیں، اگر نہیں سنا تو وہ مرسل ہے اور ہم مرسل کو ثابت نہیں سمجھتے اور سہل رضی اللہ عنہ صحابی ہیں اور انہوں نے نبی ﷺ سے سنا بھی ہے تو ہم ان کی روایت لیتے بھی ہیں۔ پھر پوچھا: زہری کی روایت کیوں نہیں لیتے؟ تو میں نے کہا: مرسل ہونے کی وجہ سے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسامة / حدیث: 16440
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ للشافعي»