السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسامة— قسامت کا بیان
باب: أصل القسامة والبداية فيها مع اللوث بأيمان المدعي باب: قسامہ کی اصل کا بیان، اور لوث (قتل کے ظاہری قرائن) کی موجودگی میں مدعی کی قسموں سے آغاز کرنے کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَتَبَ فِي قَتِيلٍ وُجِدَ بَيْنَ خَيْوَانَ وَوَادِعَةَ، أَنْ يُقَاسَ مَا بَيْنَ الْقَرْيَتَيْنِ، فَإِلَى أَيِّهِمَا كَانَ أَقْرَبَ أَخْرَجَ إِلَيْهِمْ مِنْهُمْ خَمْسِينَ رَجُلًا حَتَّى يُوَافُوهُ مَكَّةَ، فَأَدْخَلَهُمُ الْحَجَرَ فَأَحْلَفَهُمْ، ثُمَّ قَضَى عَلَيْهِمْ بِالدِّيَةِ، فَقَالُوا: مَا وَقَتْ أَمْوَالُنَا أَيْمَانَنَا، وَلَا أَيْمَانُنَا أَمْوَالَنَا، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَذَلِكَ الْأَمْرُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَالَ غَيْرُ سُفْيَانَ: عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: حَقَنْتُمْ بِأَيْمَانِكُمْ دِمَاءَكُمْ، وَلَا يُطَلُّ دَمُ مُسْلِمٍ فَقَدْ ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْجَوَابِ عَنْهُ مَا يُخَالِفُونَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ مِنَ الْأَحْكَامِ، ثُمَّ قِيلَ لَهُ: الثَّابِتُ هُوَ عِنْدَكَ، قَالَ: لَا، إِنَّمَا رَوَاهُ الشَّعْبِيُّ، عَنِ ⦗٢١٥⦘ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ، وَالْحَارِثُ مَجْهُولٌ، وَنَحْنُ نَرْوِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْإِسْنَادِ الثَّابِتِ أَنَّهُ بَدَأَ بِالْمُدَّعِينَ، فَلَمَّا لَمْ يَحْلِفُوا قَالَ: فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا وَإِذْ قَالَ: تُبْرِئُكُمْ فَلَا يَكُونُ عَلَيْهِمْ غَرَامَةٌ، وَلَمَّا لَمْ يَقْبَلِ الْأَنْصَارِيُّونَ أَيْمَانَهُمْ وَدَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَجْعَلْ عَلَى يَهُودَ الْقَتِيلَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ شَيْئًا⦗٢١٦⦘ قَالَ الرَّبِيعُ: أَخْبَرَنِي بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: حَارِثٌ الْأَعْوَرُ كَانَ كَذَّابًا وَرُوِيَ عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَمُجَالِدٌ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ وَرُوِيَ عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْأَزْمَعِ، عَنْ عُمَرَ، وَأَبُو إِسْحَاقَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْحَارِثِ بْنِ الْأَزْمَعِ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: عَنْ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ حَدِيثَ الْحَارِثِ بْنِ الْأَزْمَعِ، أَنَّ قَتِيلًا وُجِدَ بَيْنَ وَادِعَةٍ وَخَيْوَانَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ، مَنْ حَدَّثَكَ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْأَزْمَعِ، فَعَادَتْ رِوَايَةُ أَبِي إِسْحَاقَ إِلَى حَدِيثِ مُجَالِدٍ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى مُجَالِدٍ فِي إِسْنَادِهِ، وَمُجَالِدٌ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.امام شعبی رحمہ اللہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ انہیں ایک مقتول کے بارے میں لکھا گیا جو دو بستیوں کے درمیان میں ہوا۔ انہوں نے فرمایا: ”جس بستی کے وہ زیادہ قریب ہو اس کے 50 آدمی آئیں اور وہ قسم اٹھائیں۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ان پر دیت لگا دی، وہ کہنے لگے: ”ہماری قسموں نے نہ تو ہمارے مالوں کو بچایا اور نہ ہمارے مالوں نے ہماری قسموں کو۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”معاملہ کچھ ایسا ہی ہے۔“ [ضعیف]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سفیان کے علاوہ نے کہا کہ عاصم احول رحمہ اللہ امام شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہارے خون کو تمہاری قسموں نے بچا لیا لیکن میں ایک مسلمان کا خون باطل نہیں ہونے دوں گا۔“ پھر امام شافعی رحمہ اللہ نے ایک سوال کے جواب میں وہ مسائل ذکر کیے کہ جن کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس قصہ میں مخالفت کر رہے ہیں۔ پھر پوچھا گیا کہ کیا یہ قصہ آپ کے نزدیک ثابت ہے؟ فرمایا: ”نہیں۔“ امام شعبی رحمہ اللہ اسے حارث اعور سے نقل کرتے ہیں اور حارث اعور مجہول ہے۔ صحیح اور ثابت سند سے یہ بات ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہودیوں سے بھی قسم کا مطالبہ کیا، لیکن انصار نہ مانے تو آپ ﷺ نے یہودیوں پر نہیں بلکہ اپنی طرف سے دیت ادا کی تھی۔
ربیع کہتے ہیں: مجھے ایک اہلِ علم نے جریر سے، انہوں نے مغیرہ سے اور انہوں نے امام شعبی رحمہ اللہ سے بتایا کہ انہوں نے فرمایا: حارث اعور کذاب تھا۔ یہ روایت مجالد عن الشعبی عن مسروق عن عمر رضی اللہ عنہ کی سند سے بھی مروی ہے، اور مجالد قابلِ حجت نہیں۔ اور مطرف عن ابی اسحاق عن الحارث بن الازمع عن عمر کی سند سے بھی مروی ہے، اور ابو اسحاق نے حارث بن ازمع سے نہیں سنا۔ علی بن مدینی نے ابو زید سے اور انہوں نے شعبہ سے نقل کیا کہ انہوں نے کہا: میں نے ابو اسحاق کو حارث بن ازمع کی یہ حدیث بیان کرتے سنا کہ ایک مقتول وادعہ اور خیوان کے درمیان پایا گیا، تو میں نے کہا: اے ابو اسحاق! آپ کو یہ کس نے بیان کی؟ انہوں نے کہا: مجھے مجالد نے شعبی سے اور انہوں نے حارث بن ازمع سے بیان کی۔ تو ابو اسحاق کی روایت مجالد کی حدیث کی طرف لوٹ گئی، اور اس کی سند میں مجالد پر اختلاف ہے، اور مجالد قابلِ حجت نہیں۔ واللہ اعلم۔