السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسامة— قسامت کا بیان
باب: أصل القسامة والبداية فيها مع اللوث بأيمان المدعي باب: قسامہ کی اصل کا بیان، اور لوث (قتل کے ظاہری قرائن) کی موجودگی میں مدعی کی قسموں سے آغاز کرنے کا بیان۔
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا، ثنا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ صُبْحٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا حَجَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، حَجَّتَهُ الْأَخِيرَةَ الَّتِي لَمْ يَحُجَّ غَيْرَهَا، غُودِرَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَتِيلًا بِبَنِي وَادِعَةَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ عُمَرُ، وَذَلِكَ بَعْدَمَا قَضَى النُّسُكَ، وَقَالَ لَهُمْ: هَلْ عَلِمْتُمْ لِهَذَا الْقَتِيلِ قَاتِلًا مِنْكُمْ؟ قَالَ الْقَوْمُ: لَا فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُمْ خَمْسِينَ شَيْخًا، فَأَدْخَلَهُمُ الْحَطِيمَ فَاسْتَحْلَفَهُمْ بِاللهِ رَبِّ هَذَا الْبَيْتِ الْحَرَامِ وَرَبِّ هَذَا الْبَلَدِ الْحَرَامِ وَرَبِّ هَذَا الشَّهْرِ الْحَرَامِ: إِنَّكُمْ لَمْ تَقْتُلُوهُ وَلَا عَلِمْتُمْ لَهُ قَاتِلًا، فَحَلَفُوا بِذَلِكَ فَلَمَّا حَلَفُوا قَالَ: أَدُّوا دِيَةً مُغَلَّظَةً فِي أَسْنَانِ الْإِبِلِ أَوْ مِنَ الدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ دِيَةً وَثُلُثًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، يُقَالُ لَهُ سِنَانُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا تَجْزِينِي يَمِينِي مِنْ مَالِي؟ قَالَ: لَا إِنَّمَا قَضَيْتُ عَلَيْكُمْ بِقَضَاءِ نَبِيِّكُمْ فَأَخَذُوا دِيَتَهُ دَنَانِيرَ دِيَةً وَثُلُثَ دِيَةٍ قَالَ عَلِيٌّ: عُمَرُ بْنُ صُبْحٍ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: رَفْعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْكَرٌ، وَهُوَ مَعَ انْقِطَاعِهِ فِي رِوَايَةِ مَنْ أَجْمَعُوا عَلَى تَرْكِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْمُتَّصِلُ أَوْلَى أَنْ يُؤْخَذَ بِهِ مِنَ الْمُنْقَطِعِ، وَالْأَنْصَارِيُّونَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ صَاحِبِهِمْ مِنْ غَيْرِهِمْ ⦗٢١٧⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَيُرْوَى عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ بَدَأَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ، ثُمَّ رَدَّ الْأَيْمَانَ عَلَى الْمُدَّعِينَ.ابن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آخری حج کیا تو مسلمانوں کا ایک آدمی بنو وداعہ کے پاس قتل ہو گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مناسک ادا کرنے کے بعد ان کی طرف آدمی بھیجا اور ان سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے میں سے اس مقتول کے قاتل کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔ قوم نے انکار کیا تو ان سے پچاس معتبر لوگ قسم کے لیے نکالے گئے اور حطیم میں کھڑا کر کے ان الفاظ سے قسم لی کہ اللہ کی قسم، جو اس حرمت والے گھر کا رب ہے، اس حرمت والے شہر اور حرمت والے مہینے کا رب ہے، تم نے اسے قتل نہیں کیا اور نہ تم اس کے قاتل کو جانتے ہو۔ انہوں نے قسم اٹھا دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان پر دیت مغلظہ لگا دی، اونٹوں کی مخصوص عمروں میں، یا دیناروں اور درہموں میں ایک دیت اور ثلث زائد۔ ایک شخص کہنے لگا، جس کا نام سنان تھا: اے امیر المومنین! کیا میری قسم میرے مال سے کفایت نہیں کرے گی؟ فرمایا: نہیں، میں نے تم میں اللہ کے نبی ﷺ والا فیصلہ کیا ہے۔ تو انہوں نے اس کی دیت دیناروں میں، ایک دیت اور ایک تہائی دیت وصول کی۔
علی کہتے ہیں: عمر بن صبح اس کی سند میں متروک الحدیث ہے۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے نبی ﷺ تک مرفوع بیان کرنا منکر ہے، اور یہ منقطع ہونے کے ساتھ ساتھ ایسے راوی کی روایت میں ہے جس کے ترک پر محدثین کا اتفاق ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: متصل روایت منقطع کی نسبت لینے کے زیادہ لائق ہے، اور انصار اپنے آدمی کی حدیث کو دوسروں سے زیادہ جانتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے مدعی علیہم سے ابتدا کی، پھر قسمیں مدعیوں پر لوٹا دیں۔