حدیث نمبر: 16451
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا، ثنا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ صُبْحٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا حَجَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، حَجَّتَهُ الْأَخِيرَةَ الَّتِي لَمْ يَحُجَّ غَيْرَهَا، غُودِرَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَتِيلًا بِبَنِي وَادِعَةَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ عُمَرُ، وَذَلِكَ بَعْدَمَا قَضَى النُّسُكَ، وَقَالَ لَهُمْ: هَلْ عَلِمْتُمْ لِهَذَا الْقَتِيلِ قَاتِلًا مِنْكُمْ؟ قَالَ الْقَوْمُ: لَا فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُمْ خَمْسِينَ شَيْخًا، فَأَدْخَلَهُمُ الْحَطِيمَ فَاسْتَحْلَفَهُمْ بِاللهِ رَبِّ هَذَا الْبَيْتِ الْحَرَامِ وَرَبِّ هَذَا الْبَلَدِ الْحَرَامِ وَرَبِّ هَذَا الشَّهْرِ الْحَرَامِ: إِنَّكُمْ لَمْ تَقْتُلُوهُ وَلَا عَلِمْتُمْ لَهُ قَاتِلًا، فَحَلَفُوا بِذَلِكَ فَلَمَّا حَلَفُوا قَالَ: أَدُّوا دِيَةً مُغَلَّظَةً فِي أَسْنَانِ الْإِبِلِ أَوْ مِنَ الدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ دِيَةً وَثُلُثًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، يُقَالُ لَهُ سِنَانُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا تَجْزِينِي يَمِينِي مِنْ مَالِي؟ قَالَ: لَا إِنَّمَا قَضَيْتُ عَلَيْكُمْ بِقَضَاءِ نَبِيِّكُمْ فَأَخَذُوا دِيَتَهُ دَنَانِيرَ دِيَةً وَثُلُثَ دِيَةٍ قَالَ عَلِيٌّ: عُمَرُ بْنُ صُبْحٍ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: رَفْعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْكَرٌ، وَهُوَ مَعَ انْقِطَاعِهِ فِي رِوَايَةِ مَنْ أَجْمَعُوا عَلَى تَرْكِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْمُتَّصِلُ أَوْلَى أَنْ يُؤْخَذَ بِهِ مِنَ الْمُنْقَطِعِ، وَالْأَنْصَارِيُّونَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ صَاحِبِهِمْ مِنْ غَيْرِهِمْ ⦗٢١٧⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَيُرْوَى عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ بَدَأَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ، ثُمَّ رَدَّ الْأَيْمَانَ عَلَى الْمُدَّعِينَ.
حافظ ثناء اللہ

ابن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آخری حج کیا تو مسلمانوں کا ایک آدمی بنو وداعہ کے پاس قتل ہو گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف ایک شخص بھیجا تھا کہ قربانی کرنے کے بعد ان سے پوچھیں کہ کیا وہ قاتل کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔ قوم نے انکار کیا تو ان سے پچاس معتبر لوگ قسم کے لیے نکالے گئے اور حطیم میں کھڑا کر کے ان الفاظ سے قسم لی کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، جو اس گھر کا رب ہے، اس عزت والے شہر اور حرمت والے مہینے کا رب ہے، کیا تم اس قتل کے بارے میں کچھ جانتے ہو؟ انہوں نے قسم اٹھا دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان پر دیت مغلظہ لگا دی۔ دیت اور ثلث زائد۔ ایک شخص کہنے لگا، جس کا نام سنان تھا: اے امیر المومنین! کیا ہماری قسمیں ہمارے مال سے کفایت نہیں کریں گی؟ فرمایا: نہیں، میں نے تم میں اللہ کے نبی ﷺ والا فیصلہ کیا ہے۔
علی کہتے ہیں: عمر بن صبح اس کی سند میں متروک الحدیث ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسامة / حدیث: 16451
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»