السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسامة— قسامت کا بیان
باب: أصل القسامة والبداية فيها مع اللوث بأيمان المدعي باب: قسامہ کی اصل کا بیان، اور لوث (قتل کے ظاہری قرائن) کی موجودگی میں مدعی کی قسموں سے آغاز کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16437
وَيُذْكَرُ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يُتْقِنْهُ إِتْقَانَ هَؤُلَاءِ، رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَقِيبَ حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ، ثُمَّ قَالَ: إِلَّا أَنَّ ابْنَ عُيَيْنَةَ كَانَ لَا يُثْبِتُ أَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارِيِّينَ فِي الْأَيْمَانِ أَوْ يَهُودَ، فَيُقَالُ: فِي الْحَدِيثِ أَنَّهُ قَدَّمَ الْأَنْصَارِيِّينَ، فَيَقُولُ: فَهُوَ ذَاكَ أَوْ مَا أَشْبَهَ هَذَا: أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ وَبَشِيرِ بْنِ أَبِي كَيْسَانَ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، نَحْوَ رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ فِي الْبِدَايَةِ بِأَيْمَانِ الْمُدَّعِينَ.حافظ ثناء اللہ
سفیان بن عیینہ سے ایسی بات ذکر کی جاتی ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو ان راویوں کی طرح پختگی سے یاد نہیں رکھا۔ امام شافعی رحمہ اللہ ابن عیینہ سے حدیثِ ثقفی نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ ابن عیینہ یقین سے نہیں بتاتے تھے کہ نبی ﷺ نے قسم کے لیے انصار کو مقدم کیا تھا یا یہودیوں کو، ان سے کہا جاتا کہ حدیث میں یہ ہے کہ انصاریوں کو مقدم کیا تھا، تو وہ کہتے: تو پھر وہی ہے، یا اس جیسی کوئی بات کہتے۔