❮
❯
حدیث نمبر: 16433
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: انْطَلَقَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ إِلَى خَيْبَرَ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ، فَتَفَرَّقَا فِي حَوَائِجِهِمَا، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ يَتَشَحَّطُ فِي دَمِهِ قَتِيلًا، فَدَفَنَهُ، ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةُ وَحُوَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَبِّرِ الْكُبْرَ " وَهُوَ أَحْدَثُ الْقَوْمِ، فَسَكَتَ فَتَكَلَّمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَكُمْ أَوْ صَاحِبَكُمْ؟ " فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَرَ؟ قَالَ: " فَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ؟ " فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ نَأْخُذُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ، قَالَ: فَعَقَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ لَفْظُ حَدِيثِ مُسَدَّدٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ الْقَوَارِيرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید خیبر کی طرف گئے، اور ان دنوں وہاں صلح تھی، تو وہ اپنی ضرورتوں کے لیے جدا جدا ہو گئے۔ پھر محیصہ، عبداللہ بن سہل کے پاس پہنچے تو وہ قتل ہو کر اپنے خون میں لت پت تڑپ رہے تھے، تو انہوں نے انہیں دفن کر دیا، پھر مدینہ آئے تو عبدالرحمن بن سہل اور مسعود کے دونوں بیٹے محیصہ اور حویصہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے۔ عبدالرحمن بات کرنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”بڑے کو بڑائی دو“، کیونکہ وہ ان میں سب سے کم عمر تھے، تو وہ خاموش ہو گئے اور ان دونوں نے بات کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم پچاس قسمیں اٹھاتے ہو اور اپنے قاتل یا اپنے ساتھی (کے خون) کے مستحق بنتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم کیسے قسم اٹھائیں جبکہ نہ ہم موجود تھے اور نہ ہم نے دیکھا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو یہودی پچاس (قسموں) کے ذریعے تمہارے دعوے سے بری ہو جائیں؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم کافر قوم کی قسمیں کیسے لیں؟“ راوی کہتے ہیں: تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا کر دی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسامة / حدیث: 16433