السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسامة— قسامت کا بیان
باب: أصل القسامة والبداية فيها مع اللوث بأيمان المدعي باب: قسامہ کی اصل کا بیان، اور لوث (قتل کے ظاہری قرائن) کی موجودگی میں مدعی کی قسموں سے آغاز کرنے کا بیان۔
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ ⦗٢١٠⦘ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدِ بْنِ قَيْظِيٍّ، أَخِي بَنِي حَارِثَةَ، قَالَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ: وَايْمُ اللهِ، مَا كَانَ سَهْلٌ بِأَكْثَرَ عِلْمًا مِنْهُ، وَلَكِنَّهُ كَانَ أَسَنَّ مِنْهُ، إِنَّهُ قَالَ لَهُ: وَاللهِ مَا هَكَذَا كَانَ الشَّانُ، وَلَكِنْ سَهْلٌ أَوْهَمَ مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْلِفُوا عَلَى مَا لَا عِلْمَ لَكُمْ بِهِ، وَلَكِنَّهُ كَتَبَ إِلَى يَهُودَ خَيْبَرَ حِينَ كَلَّمَتْهُ الْأَنْصَارُ: أَنَّهُ وُجِدَ فِيكُمْ قَتِيلٌ بَيْنَ أَبْيَاتِكُمْ فَدُوهُ، فَكَتَبُوا إِلَيْهِ يَحْلِفُونَ بِاللهِ مَا قَتَلُوهُ وَلَا يَعْلَمُونَ لَهُ قَاتِلًا، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ.عبدالرحمن بن بجید بن قیظی سے روایت ہے، جو بنو حارثہ سے تھے — ابنِ ابراہیم کہتے ہیں: «وَاللّٰهِ»! سہل رضی اللہ عنہ علم میں ان سے بڑھ کر نہ تھے لیکن عمر میں ان سے بڑے تھے — کہ انہوں نے ان سے کہا: «وَاللّٰهِ»! معاملہ اس طرح نہیں تھا، بلکہ سہل رضی اللہ عنہ کو وہم ہوا، رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ”جس کا تمہیں علم نہیں اس پر قسم اٹھاؤ“، بلکہ جب انصار رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ سے بات کی تو آپ ﷺ نے خیبر کے یہود کی طرف لکھا کہ تمہارے ہاں تمہارے گھروں کے درمیان ایک مقتول پایا گیا ہے، لہٰذا اس کی دیت ادا کرو۔ تو انہوں نے اللہ کی قسم اٹھا کر لکھ بھیجا کہ نہ انہوں نے اسے قتل کیا ہے اور نہ وہ اس کے قاتل کو جانتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی دیت اپنی طرف سے ادا کر دی۔