کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: طلاق کے ان کنایہ (مبہم) الفاظ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان جن سے طلاق اس وقت تک واقع نہیں ہوتی جب تک کہ کلام ادا کرنے والا اس سے طلاق کا ارادہ نہ کرے۔
حَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ إِمْلَاءً نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ، أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْمُزَنِيَّةَ الْبَتَّةَ ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ وَاللهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرُكَانَةَ: " وَاللهِ مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً؟ " فَقَالَ رُكَانَةُ: وَاللهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
نافع بن عجیر بن عبد یزید فرماتے ہیں کہ رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سہیمہ مزنیہ کو تین طلاقیں دے دیں، پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے آ کر کہا: ”میں نے اپنی بیوی سہیمہ کو تین طلاقیں دی ہیں لیکن ارادہ صرف ایک طلاق کا تھا،“ تو رسول اللہ ﷺ نے رکانہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اللہ کی قسم! کیا تو نے ایک طلاق کا ارادہ کیا تھا؟“ رکانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”اللہ کی قسم! میں نے ایک طلاق کا ارادہ کیا تھا۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی بیوی کو واپس کر دیا، پھر رکانہ رضی اللہ عنہ نے دوسری طلاق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں اور تیسری سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں دی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُمْ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ ابْنِ السَّائِبِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ، عَنْ رُكَانَةَ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ⦗٥٦٠⦘ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَدَنِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، نا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سَمِعْتُ شَيْخًا، بِمَكَّةَ وَقَالَ: نا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ، عَنْ رُكَانَةَ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ قَالَ: كَانَتْ عِنْدِي امْرَأَةٌ يُقَالُ لَهَا سُهَيْمَةُ فَطَلَّقْتُهَا الْبَتَّةَ فَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ وَاللهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً فَقَالَ: " وَاللهِ مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً؟ " قُلْتُ: وَاللهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَرَدَّهَا عَلَيَّ عَلَى وَاحِدَةٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيٍّ الثَّانِي هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيٍّ الْأَوَّلُ هُوَ ابْنُ رُكَانَةَ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی جس کو سہمیہ کہا جاتا تھا، میں نے اس کو تین طلاقیں دے دیں، پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے اپنی بیوی سہمیہ کو تین طلاقیں دے دی ہیں اور اللہ کی قسم! ارادہ میں نے ایک ہی کا کیا تھا۔“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اللہ کی قسم! کیا تو نے ایک ہی کا ارادہ کیا تھا؟“ میں نے کہا: ”ہاں، اللہ کی قسم! میں نے ایک ہی کا ارادہ کیا تھا۔“ تو آپ ﷺ نے ایک طلاق کے بعد بیوی کو واپس کر دیا۔
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ نا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، نا جَرِيرٌ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ثُمَّ قَالَ: مَا نَوَيْتُ بِذَلِكَ إِلَّا وَاحِدَةً قَالَ: " آللَّهِ؟ " قَالَ: آللَّهِ، قَالَ: " فَهُوَ عَلَى مَا أَرَدْتَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يُوسُفُ الْقَاضِي عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ وَقَدْ قِيلَ عَنْهُ وَعَنْ غَيْرِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن علی بن رکانہ رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے دور میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، پھر نبی ﷺ کو آکر بتایا کہ میں نے صرف ایک طلاق کا ارادہ کیا تھا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اللہ کی قسم! تو نے ایک ہی کا ارادہ کیا تھا؟“ انہوں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! آپ ﷺ نے فرمایا: ”ویسے ہی ہے جیسے تو نے ارادہ کیا۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ أنا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، نا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَشيْبَانُ، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: أنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَا أَرَدْتَ بِهَا؟ " قَالَ: وَاحِدَةً قَالَ: " آللَّهِ؟ " قَالَ: آللَّهِ، قَالَ: " هُوَ عَلَى مَا أَرَدْتَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے کر نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو نے کیا ارادہ کیا تھا؟“ اس نے کہا: ایک طلاق کا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «آللّٰهِ؟» ”کیا اللہ کی قسم؟ وہ ویسے ہی ہے جیسے تو نے ارادہ کیا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَنُوحُ بْنُ الْهَيْثَمِ، وَصَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، قَالُوا: نا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، نا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ أِيُّ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ؟ فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ ابْنَةَ الْجَوْنِ لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَنَا مِنْهَا قَالَتْ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُذْتِ بِعَظِيمٍ الْحَقِي بِأَهْلِكِ "، ⦗٥٦١⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ. وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: الْحَقِي بِأَهْلِكِ جَعَلَهَا تَطْلِيقَةً.
حافظ ثناء اللہ
اوزاعی کہتے ہیں: میں نے زہری سے پوچھا: نبی ﷺ کی کون سی بیوی ہے جس نے آپ ﷺ سے پناہ مانگی تھی؟ کہتے ہیں کہ مجھے عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ جون کی بیٹی جب رسول اللہ ﷺ کے پاس داخل ہوئی تو آپ ﷺ اس کے قریب ہوئے تو اس نے کہا: ”میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے بڑے کی پناہ مانگی ہے، اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ۔“
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، نا حَامِدُ بْنُ آدَمَ بْنِ مُسْلِمٍ الْأَزْدِيُّ، نا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَذَكَرَهُ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ذئب رحمہ اللہ زہری رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے اہل سے جا ملو“ گویا کہ آپ ﷺ نے اس کو طلاق دی۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ كَعْبٍ، قَائِدَ كَعْبٍ حِينَ عَمِيَ مِنْ بَنِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ وَأَنَّ رَسُولَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ " فَقُلْتُ: أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ بِهَا؟ فَقَالَ: لَا بَلِ اعْتَزِلْهَا فَلَا تَقْرَبَنَّهَا، وَأَرْسَلَ إِلَى صَاحِبَيَّ بِمِثْلِ ذَلِكَ، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللهُ هَذَا الْأَمْرَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ اللَّيْثِ. فَفِي هَذَا مَعَ الْأَوَّلِ كَالدَّلَالَةِ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ الْحَقِي بِأَهْلِكِ كِنَايَةٌ إِنْ أَرَادَ بِهِ الطَّلَاقَ كَانَ طَلَاقًا، وَإِنْ لَمْ يُرِدْهُ لَا يَكُونُ طَلَاقًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنا قصہ بیان کرتے ہیں، جس وقت وہ غزوہ تبوک میں نبی ﷺ سے پیچھے رہ گئے۔ یہ ایک لمبی حدیث ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کا قاصد آیا، اس نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ آپ اپنی بیوی سے جدا رہیں۔“ میں نے کہا کہ میں اس کو طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: ”اس سے الگ رہنا ہے، قریب نہیں جانا۔“ اور آپ ﷺ نے میرے دو ساتھیوں کی جانب بھی کسی کو بھیجا تو میں نے اپنی بیوی سے کہا: ”اپنے گھر چلی جاؤ، ان کے پاس رہنا یہاں تک کہ اللہ اس معاملے کا فیصلہ فرما دے۔“
«الْحَقِي بِأَهْلِكِ» ”اپنے گھر چلی جاؤ“ یہ ایسے الفاظ ہیں جو طلاق سے کنایہ ہیں، اگر اس سے طلاق مراد لی جائے تو طلاق ہو جائے گی اور اگر طلاق کا ارادہ نہ ہو تو طلاق واقع نہ ہو گی۔
«الْحَقِي بِأَهْلِكِ» ”اپنے گھر چلی جاؤ“ یہ ایسے الفاظ ہیں جو طلاق سے کنایہ ہیں، اگر اس سے طلاق مراد لی جائے تو طلاق ہو جائے گی اور اگر طلاق کا ارادہ نہ ہو تو طلاق واقع نہ ہو گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ أَبُو عُتْبَةَ، نا بَقِيَّةُ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " اعْتَدِّي "، فَجَعَلَهَا تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً وَهُوَ أَمْلَكُ بِهَا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”تو عدت گزار“ آپ ﷺ نے اس کو ایک طلاق دے دی۔ آپ ﷺ اس کے مالک ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ حَنْطَبٍ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ ثُمَّ أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ قَالَ: فَقَرَأَ {وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا} [النساء: ٦٦] مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ: " أَمْسِكْ عَلَيْكَ امْرَأَتَكَ فَإِنَّ الْوَاحِدَةَ تُبِتُّ " ⦗٥٦٢⦘.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عباد بن جعفر فرماتے ہیں کہ مطلب بن حنطب نے مجھے بیان کیا کہ اس نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دے دیں، پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آکر تذکرہ کیا تو انہوں نے پوچھا: کس چیز نے آپ کو اس پر ابھارا تھا؟ کہتے ہیں: میں نے یہ کام کر لیا اور پھر اس آیت کی تلاوت کی: ﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا﴾ [سورة النساء: 66] ”اگر وہ کریں جس کی ان کو نصیحت کی گئی تو ان کے لیے بہتر ہو اور زیادہ تر ثابت رکھنا۔“ کس چیز نے آپ کو اس پر ابھارا؟ کہتے ہیں: میں نے یہ کام کر دیا۔ فرماتے ہیں: اپنی بیوی کو روک لو؛ کیونکہ وہ ایک طلاق کی وجہ سے جدا ہو گئی تھی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِلتَّوْأَمَةِ مِثْلَ قَوْلِهِ لِلْمُطَّلِبِ.
حافظ ثناء اللہ
سلمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ مطلب کے قول کے مشابہ بات ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْعِرَاقِيُّ نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي " الْخَلِيَّةِ وَالْبَرِيَّةِ وَالْبَتَّةِ وَالْبَائِنَةِ وَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب وہ یہ الفاظ کہے: «خَلِيَّةٌ» ”خلیہ“، «بَرِيَّةٌ» ”بریہ“، «الْبَتَّةُ» ”البتہ“ اور «الْبَائِنَةُ» ”البائنہ“ تو ایک طلاق ہوگی، اور وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّهُ كُتِبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ الْعِرَاقِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِامْرَأَتِهِ: حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ فَكَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى عَامِلِهِ أَنْ مُرْهُ أَنْ يُوَافِيَنِي فِي الْمَوْسِمِ فَبَيْنَمَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ لَقِيَهُ الرَّجُلُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الَّذِي أَمَرْتَ أَنْ يُجْلَبَ عَلَيْكَ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ بِرَبِّ هَذِهِ الْبَنِيَّةِ هَلْ أَرَدْتَ بِقَوْلِكَ حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ الطَّلَاقَ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: لَوِ اسْتَحْلَفْتَنِي فِي غَيْرِ هَذَا الْمَكَانِ مَا صَدَقْتُكَ أَرَدْتُ الْفِرَاقَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " هُوَ مَا أَرَدْتَ " ⦗٥٦٣⦘.
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عراق سے ایک خط لکھا گیا کہ ایک شخص نے اپنی عورت سے یہ الفاظ کہے ہیں: «حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ»، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عامل کو لکھا کہ اسے حکم دیں کہ وہ حج کے موقع پر مجھ سے ملاقات کرے، تو اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے طواف کرتے وقت ملاقات کی اور سلام کہا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں وہ ہوں جس کو آپ نے حاضر ہونے کا کہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تجھے اس عمارت کے رب کی قسم! تیرا اس قول «حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ» سے کیا ارادہ تھا؟ کیا طلاق کا قصد تھا؟ تو اس شخص نے کہا: اگر اس جگہ کے علاوہ آپ میرے اوپر قسم ڈالتے تو میں آپ کو سچ نہ بتاتا، میں نے فراق ہی کا ارادہ کیا ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ویسے ہی ہے جیسے تو نے ارادہ کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ أنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ أنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، نا غَسَّانُ بْنُ مُضَرَ، نا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْحَلَالِ الْعَتَكِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّهُ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَافِ مَعَنَا الْمَوْسِمَ فَأَتَاهُ الرَّجُلُ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَقَالَ تَرَى ذَلِكَ الْأَصْلَعَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ اذْهَبْ إِلَيْهِ فَسَلْهُ ثُمَّ ارْجِعْ فَأَخْبِرْنِي بِمَا رَجَعَ إِلَيْكَ، قَالَ: فَذَهَبَ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ مَنْ بَعَثَكَ إِلِيَّ؟ فَقَالَ: أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: إِنَّهُ قَالَ لِامْرَأَتِهِ حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ، فَقَالَ: اسْتَقْبِلِ الْبَيْتَ وَاحْلِفْ بِاللهِ مَا أَرَدْتَ طَلَاقًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَأَنَا أَحْلِفُ بِاللهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا الطَّلَاقَ، فَقَالَ: " بَانَتْ مِنْكَ امْرَأَتُكَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوحلال عتکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جس نے اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے تھے: «حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ»۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حج کے موقع پر ہمیں ملنا۔“ تو اس شخص نے بیت اللہ کے اندر اپنا قصہ سنایا تو انہوں نے فرمایا: ”آپ اس اصلع کو دیکھتے ہیں جو بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے، ان سے جا کر سوال کرو، پھر واپس آکر مجھے بتانا۔“ جب وہ شخص ان کی طرف گیا تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”آپ کو کس نے میری طرف بھیجا ہے؟“ تو اس شخص نے کہا: ”امیر المؤمنین نے کہ اس نے اپنی بیوی سے کہا ہے: «حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ»۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ بیت اللہ کی طرف منہ کر کے اللہ کی قسم اٹھائیں کہ آپ نے طلاق کا ارادہ نہیں کیا؟“ تو اس شخص نے کہا: ”میں نے تو اللہ کی قسم! طلاق کا ارادہ کیا تھا۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تیری بیوی تجھ سے جدا ہوگئی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، أنا مَنْصُورٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِامْرَأَتِهِ: حَبْلُكِ ⦗٥٦٣⦘ عَلَى غَارِبِكِ قَالَ ذَلِكَ مِرَارًا فَأَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاسْتَحْلَفَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ مَا الَّذِي أَرَدْتَ بِقَوْلِكَ؟ قَالَ: أَرَدْتُ الطَّلَاقَ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا قَالَ الشَّيْخُ: وَكَأَنَّهُ إِنَّمَا اسْتَحْلَفَهُ عَلَى إِرَادَةِ التَّأْكِيدِ بِالتَّكْرِيرِ دُونَ الِاسْتِئْنَافِ وَكَأَنَّهُ أَقَرَّ فَقَالَ أَرَدْتُ بِكُلِّ مَرَّةٍ إِحْدَاثَ طَلَاقٍ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا: «حَبْلُكِ عَلَىٰ غَارِبِكِ» اس نے بار بار یہ الفاظ کہے تو پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ انہوں نے رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان اس سے قسم کا مطالبہ کیا کہ تیرا اس قول سے کیا ارادہ تھا؟ اس نے کہا: میں نے طلاق کا ارادہ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے درمیان تفریق کروا دی۔
شیخ فرماتے ہیں: قسم کا مطالبہ اس سے صرف تاکید کی غرض سے تھا کہ وہ اقرار کر لے کہ میں نے ہر مرتبہ طلاق کا ہی ارادہ کیا تھا تو پھر ان دونوں کے درمیان تفریق ڈلوا دی۔
شیخ فرماتے ہیں: قسم کا مطالبہ اس سے صرف تاکید کی غرض سے تھا کہ وہ اقرار کر لے کہ میں نے ہر مرتبہ طلاق کا ہی ارادہ کیا تھا تو پھر ان دونوں کے درمیان تفریق ڈلوا دی۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي كِتَابِ الْقَدِيمِ وَذَكَرَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رُفِعَ إِلَيْهِ رَجُلٌ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ فَقَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: انْظُرْ بَيْنَهُمَا فَذَكَرَ مَعْنَى مَا رَوَيْنَا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَأَمْضَاهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثَلَاثًا قَالَ: وَذُكِرَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلُهُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا لَا يُخَالِفُ رِوَايَةَ مَالِكٍ وَكَأَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَعَلَهَا وَاحِدَةً كَمَا قَالَ فِي الْبَتَّةِ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَعَلَهَا ثَلَاثًا وَاللهُ أَعْلَمُ، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُمَا جَمِيعًا جَعَلَاهَا ثَلَاثًا لِتَكْرِيرِهِ اللَّفْظَ فِي الْمَدْخُولِ بِهَا ثَلَاثًا، وَإِرَادَتِهِ بِكُلِّ مَرَّةٍ إِحْدَاثَ طَلَاقٍ كَمَا قُلْنَا فِي رِوَايَةِ مَنْصُورٍ عَنْ عَطَاءٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کو لایا گیا، جس نے اپنی بیوی سے «حَبْلُكِ عَلَىٰ غَارِبِكِ» کے الفاظ کہے تھے، تو انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ان کے درمیان فیصلہ کیجیے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تین طلاق کا فیصلہ کر دیا۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ مالک کی روایت کے مخالف ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ایک شمار کیا تھا جیسے بتہ میں تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو تین شمار کیا ہے اور ممکن ہے سب نے ان کو تین ہی قرار دیا ہو مدخول بہا کے لیے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ مالک کی روایت کے مخالف ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ایک شمار کیا تھا جیسے بتہ میں تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو تین شمار کیا ہے اور ممکن ہے سب نے ان کو تین ہی قرار دیا ہو مدخول بہا کے لیے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْفَقِيهُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، نا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شَرِيكٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ وَقَيْسٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دَجَاجَةَ قَالَ: طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ لَهَا: أَنْتِ عَلَى حَرَجٍ قَالَ: فَدَخَلَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: " أَتَرَاهَا أَهْوَنَهُنَّ عَلَيَّ فَأَبَانَهَا مِنْهُ " قَالَ الشَّيْخُ: فَكَأَنَّهُ أَخْبَرَهُ بِنِيَّةِ الْفِرَاقِ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرُوِّينَا عَنْ شُرَيْحٍ وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ فِي الْبَتَّةِ أَنَّهُ يَدِينُ فِيهَا وَعَنْ عَطَاءٍ فِي قَوْلِهِ خَلِيَّةٌ وَخَلَوْتِ مِنِّي وَبَرِيَّةٌ وَبَرِئْتِ مِنِّي وَبَائِنَةٌ وَبِنْتِ مِنِّي أَنَّهُ يَدِينُ فِيهَا وَكَذَلِكَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوحیصین، نعیم بن دجاجہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی عورت کو دو طلاقیں دیں، پھر اسے کہتا ہے: تو میرے اوپر حرام ہے۔ اس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ذکر کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے کہا: کیا آپ ان عورتوں کو میرے نزدیک حقیر سمجھتے ہیں؟ پھر اس عورت کو مرد سے جدا کر دیا۔
شیخ فرماتے ہیں: پھر اس نے اس شخص کی نیت جدا کرنے کی تھی۔
(ب) عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ تین طلاقوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کی بنا پر عورت کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور حضرت عطاء رحمہ اللہ اپنے قول «خَلِيَّةٌ وَخَلَوْتِ مِنِّي وَبَرِيَّةٌ وَبَرِئْتِ مِنِّي وَبَائِنَةٌ وَبِنْتِ مِنِّي» ”تو آزاد ہے اور مجھ سے الگ ہو گئی ہے، تو بری ہے اور مجھ سے بری ہو گئی ہے، تو جدا ہے اور مجھ سے جدا ہو گئی ہے“ میں اس کے قول کی تصدیق کی جاتی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: پھر اس نے اس شخص کی نیت جدا کرنے کی تھی۔
(ب) عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ تین طلاقوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کی بنا پر عورت کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور حضرت عطاء رحمہ اللہ اپنے قول «خَلِيَّةٌ وَخَلَوْتِ مِنِّي وَبَرِيَّةٌ وَبَرِئْتِ مِنِّي وَبَائِنَةٌ وَبِنْتِ مِنِّي» ”تو آزاد ہے اور مجھ سے الگ ہو گئی ہے، تو بری ہے اور مجھ سے بری ہو گئی ہے، تو جدا ہے اور مجھ سے جدا ہو گئی ہے“ میں اس کے قول کی تصدیق کی جاتی ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ، أنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ، نا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، نا سُفْيَانُ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " مَا أُرِيدَ بِهِ الطَّلَاقَ فَهُوَ طَلَاقٌ " وَكَذَلِكَ رُوِّينَا عَنْ مَسْرُوقٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِمَا وَإِنَّمَا أَرَادُوا بِذَلِكَ إِذَا تَكَلَّمَ بِمَا يُشْبِهُ الطَّلَاقَ ⦗٥٦٤⦘.
حافظ ثناء اللہ
ابن طاؤس رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں صرف طلاق کا ارادہ کرتا ہوں تو طلاق ہو جاتی ہے، مسروق رحمہ اللہ اور ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب وہ طلاق کا ارادہ کرتے تو طلاق کے مشابہ الفاظ بولتے۔