السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في كنايات الطلاق التي لا يقع الطلاق بها إلا أن يريد بمخرج الكلام منه الطلاق باب: طلاق کے ان کنایہ (مبہم) الفاظ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان جن سے طلاق اس وقت تک واقع نہیں ہوتی جب تک کہ کلام ادا کرنے والا اس سے طلاق کا ارادہ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 15015
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ، أنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ، نا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، نا سُفْيَانُ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " مَا أُرِيدَ بِهِ الطَّلَاقَ فَهُوَ طَلَاقٌ " وَكَذَلِكَ رُوِّينَا عَنْ مَسْرُوقٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِمَا وَإِنَّمَا أَرَادُوا بِذَلِكَ إِذَا تَكَلَّمَ بِمَا يُشْبِهُ الطَّلَاقَ ⦗٥٦٤⦘.حافظ ثناء اللہ
ابن طاؤس رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں صرف طلاق کا ارادہ کرتا ہوں تو طلاق ہو جاتی ہے، مسروق رحمہ اللہ اور ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب وہ طلاق کا ارادہ کرتے تو طلاق کے مشابہ الفاظ بولتے۔