السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في كنايات الطلاق التي لا يقع الطلاق بها إلا أن يريد بمخرج الكلام منه الطلاق باب: طلاق کے ان کنایہ (مبہم) الفاظ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان جن سے طلاق اس وقت تک واقع نہیں ہوتی جب تک کہ کلام ادا کرنے والا اس سے طلاق کا ارادہ نہ کرے۔
حَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ إِمْلَاءً نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ، أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْمُزَنِيَّةَ الْبَتَّةَ ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ وَاللهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرُكَانَةَ: " وَاللهِ مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً؟ " فَقَالَ رُكَانَةُ: وَاللهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.نافع بن عجیر بن عبد یزید فرماتے ہیں کہ رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سہیمہ مزنیہ کو تین طلاقیں دے دیں، پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے آ کر کہا: ”میں نے اپنی بیوی سہیمہ کو تین طلاقیں دی ہیں لیکن ارادہ صرف ایک طلاق کا تھا،“ تو رسول اللہ ﷺ نے رکانہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اللہ کی قسم! کیا تو نے ایک طلاق کا ارادہ کیا تھا؟“ رکانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”اللہ کی قسم! میں نے ایک طلاق کا ارادہ کیا تھا۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی بیوی کو واپس کر دیا، پھر رکانہ رضی اللہ عنہ نے دوسری طلاق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں اور تیسری سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں دی۔