السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في كنايات الطلاق التي لا يقع الطلاق بها إلا أن يريد بمخرج الكلام منه الطلاق باب: طلاق کے ان کنایہ (مبہم) الفاظ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان جن سے طلاق اس وقت تک واقع نہیں ہوتی جب تک کہ کلام ادا کرنے والا اس سے طلاق کا ارادہ نہ کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْفَقِيهُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، نا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شَرِيكٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ وَقَيْسٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دَجَاجَةَ قَالَ: طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ لَهَا: أَنْتِ عَلَى حَرَجٍ قَالَ: فَدَخَلَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: " أَتَرَاهَا أَهْوَنَهُنَّ عَلَيَّ فَأَبَانَهَا مِنْهُ " قَالَ الشَّيْخُ: فَكَأَنَّهُ أَخْبَرَهُ بِنِيَّةِ الْفِرَاقِ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرُوِّينَا عَنْ شُرَيْحٍ وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ فِي الْبَتَّةِ أَنَّهُ يَدِينُ فِيهَا وَعَنْ عَطَاءٍ فِي قَوْلِهِ خَلِيَّةٌ وَخَلَوْتِ مِنِّي وَبَرِيَّةٌ وَبَرِئْتِ مِنِّي وَبَائِنَةٌ وَبِنْتِ مِنِّي أَنَّهُ يَدِينُ فِيهَا وَكَذَلِكَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ.ابوحیصین، نعیم بن دجاجہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی عورت کو دو طلاقیں دیں، پھر اسے کہتا ہے: تو میرے اوپر حرام ہے۔ اس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ذکر کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے کہا: کیا آپ ان عورتوں کو میرے نزدیک حقیر سمجھتے ہیں؟ پھر اس عورت کو مرد سے جدا کر دیا۔
شیخ فرماتے ہیں: پھر اس نے اس شخص کی نیت جدا کرنے کی تھی۔
(ب) عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ تین طلاقوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کی بنا پر عورت کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور حضرت عطاء رحمہ اللہ اپنے قول «خَلِيَّةٌ وَخَلَوْتِ مِنِّي وَبَرِيَّةٌ وَبَرِئْتِ مِنِّي وَبَائِنَةٌ وَبِنْتِ مِنِّي» ”تو آزاد ہے اور مجھ سے الگ ہو گئی ہے، تو بری ہے اور مجھ سے بری ہو گئی ہے، تو جدا ہے اور مجھ سے جدا ہو گئی ہے“ میں اس کے قول کی تصدیق کی جاتی ہے۔