السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في كنايات الطلاق التي لا يقع الطلاق بها إلا أن يريد بمخرج الكلام منه الطلاق باب: طلاق کے ان کنایہ (مبہم) الفاظ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان جن سے طلاق اس وقت تک واقع نہیں ہوتی جب تک کہ کلام ادا کرنے والا اس سے طلاق کا ارادہ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 15000
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، نا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سَمِعْتُ شَيْخًا، بِمَكَّةَ وَقَالَ: نا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ، عَنْ رُكَانَةَ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ قَالَ: كَانَتْ عِنْدِي امْرَأَةٌ يُقَالُ لَهَا سُهَيْمَةُ فَطَلَّقْتُهَا الْبَتَّةَ فَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ وَاللهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً فَقَالَ: " وَاللهِ مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً؟ " قُلْتُ: وَاللهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَرَدَّهَا عَلَيَّ عَلَى وَاحِدَةٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيٍّ الثَّانِي هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيٍّ الْأَوَّلُ هُوَ ابْنُ رُكَانَةَ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی جس کو سہمیہ کہا جاتا تھا، میں نے اس کو تین طلاقیں دے دیں، پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے اپنی بیوی سہمیہ کو تین طلاقیں دے دی ہیں اور اللہ کی قسم! ارادہ میں نے ایک ہی کا کیا تھا۔“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اللہ کی قسم! کیا تو نے ایک ہی کا ارادہ کیا تھا؟“ میں نے کہا: ”ہاں، اللہ کی قسم! میں نے ایک ہی کا ارادہ کیا تھا۔“ تو آپ ﷺ نے ایک طلاق کے بعد بیوی کو واپس کر دیا۔