السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في كنايات الطلاق التي لا يقع الطلاق بها إلا أن يريد بمخرج الكلام منه الطلاق باب: طلاق کے ان کنایہ (مبہم) الفاظ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان جن سے طلاق اس وقت تک واقع نہیں ہوتی جب تک کہ کلام ادا کرنے والا اس سے طلاق کا ارادہ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 15001
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ نا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، نا جَرِيرٌ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ثُمَّ قَالَ: مَا نَوَيْتُ بِذَلِكَ إِلَّا وَاحِدَةً قَالَ: " آللَّهِ؟ " قَالَ: آللَّهِ، قَالَ: " فَهُوَ عَلَى مَا أَرَدْتَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يُوسُفُ الْقَاضِي عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ وَقَدْ قِيلَ عَنْهُ وَعَنْ غَيْرِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن علی بن رکانہ رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے دور میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، پھر نبی ﷺ کو آکر بتایا کہ میں نے صرف ایک طلاق کا ارادہ کیا تھا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اللہ کی قسم! تو نے ایک ہی کا ارادہ کیا تھا؟“ انہوں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! آپ ﷺ نے فرمایا: ”ویسے ہی ہے جیسے تو نے ارادہ کیا۔“