حدیث نمبر: 15002
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ أنا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، نا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَشيْبَانُ، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: أنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَا أَرَدْتَ بِهَا؟ " قَالَ: وَاحِدَةً قَالَ: " آللَّهِ؟ " قَالَ: آللَّهِ، قَالَ: " هُوَ عَلَى مَا أَرَدْتَ ".
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے کر نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو نے کیا ارادہ کیا تھا؟“ اس نے کہا: ایک طلاق کا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «آللّٰهِ؟» ”کیا اللہ کی قسم؟ وہ ویسے ہی ہے جیسے تو نے ارادہ کیا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15002
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره»